سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 212 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 212

سیرت المہدی 212 حصہ پنجم ہوا اور اس وقت میں سولہ بچوں کی ماں ہوں۔جن میں سے آٹھ بفضلہ تعالیٰ زندہ ہیں۔الحمد للہ علی ذالک۔1342 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔والدہ محترمہ ڈاکٹر چوہدری شاہ نواز صاحب زوجہ چوہدری مولا بخش صاحب چونڈے والے سررشتہ دار نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں نے 4 مئی ۱۹۰۱ء میں بیعت کی تھی۔میں بڑے دلان میں آکر اتری تھی۔میں پہلے آٹھ یوم رہی تھی۔میری گود میں لڑکا تھا۔حضرت اماں جان نے پوچھا۔اس کا کیا نام ہے؟ میں نے عرض کیا۔”مبارک احمد “ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے مبارک کا نام رکھ لیا ہے۔حضور نے مسکرا کر فرمایا کہ ” جیتا رہے۔“ مجھے بچپن سے ہی نماز روزہ کا شوق تھا۔جب میں بیعت کر کے چلی گئی تو مجھے اچھی اچھی خوا ہیں آنے لگیں۔میرے خواب میرے خاوند مرحوم کا پی میں لکھتے جاتے۔جب ایک کا پی لکھی گئی تو حضور کی خدمت میں اس کو بھیجا اور پوچھا کہ حضور ! یہ خواہیں کیسی ہیں؟ رحمانی ہیں یا شیطانی ؟ حضور علیہ السلام نے لکھ بھیجا تھا کہ یہ سب رحمانی ہیں۔“ 1343 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔برکت بی بی صاحبہ اہلیہ حکیم مولوی رحیم بخش صاحب مرحوم ساکنہ تلونڈی نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں نے ۱۹۰۳ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی تھی۔پہلے جب میں اپنے خاوند مرحوم مغفور کے ساتھ قادیان میں آئی تھی تو میں آنگن میں بیٹھی تھی۔جمعہ کا دن تھا ، حضور علیہ السلام نے مہندی لگائی ہوئی تھی اور کمرے میں سے تشریف لائے تھے۔مجھے فرمایا کہ "تم رحیم بخش کی بیوی ہو؟ میرے ساتھ چھوٹی بچی تھی۔حضور نے فرمایا " یہ تمہاری لڑکی ہے؟ فرمایا ” تمہارا کوئی لڑکا بھی ہے میں نے عرض کیا کہ نہیں ،صرف یہی لڑکی ہے۔”اچھا فرما کر اندر تشریف لے گئے۔1344 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مائی رکھی خادمہ کے زئی فیض اللہ چک والدہ نذیر نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ بھائی حامد علی صاحب کے پیٹ میں تلی تھی۔وہ حضور علیہ السلام سے علاج کرانے آتے تھے۔جب اچھے ہو گئے تو حضور کے خادم بن کر یہاں ہی رہ گئے اور اپنی بیوی کو بھی بلا لیا۔حافظ نور محمد صاحب والد رحمت اللہ شاکر بھی قادیان آگئے۔حضور نے حافظ نور محمد صاحب کے