سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 203
سیرت المہدی 203 حصہ پنجم علیہ الصلوۃ والسلام خود گلابی کمرے میں تشریف لائے ( جو کہ مکان کی نچلی منزل میں تھا ) حضرت مولوی عبدالکریم صاحب مکان کی اوپر والی تیسری منزل پر رہا کرتے تھے۔ان کی بڑی اہلیہ کریم بی بی صاحبہ جن کو مولویانی کہا کرتے تھے کشمیری تھیں اور پراٹھے اچھے پکایا کرتی تھیں۔حضور نے یہ پراٹھے ان سے ہمارے واسطے پکوائے تھے۔پراٹھے گرما گرم اوپر سے آتے تھے اور حضور علیہ السلام خود لے کر ہمارے آگے رکھتے تھے اور فرماتے تھے۔”اچھی طرح کھاؤ“۔مجھے تو شرم آتی تھی اور ڈاکٹر صاحب بھی شرمسار تھے مگر ہمارے دلوں پر جو اثر حضوڑ کی شفقت اور عنایت کا تھا اس سے روئیں، روئیں میں خوشی کا لرزہ پیدا ہو رہا تھا۔اتنے میں اذان ہوگئی تو حضور نے فرمایا کہ اور کھاؤ بھی بہت وقت ہے۔فرمایا قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ (البقرة: ۱۸۸)۔اس پر لوگ عمل نہیں کرتے۔آپ کھا ئیں ابھی وقت بہت ہے۔مؤذن نے وقت سے پہلے اذان دے دی ہے۔“ جب تک ہم کھاتے رہے حضور کھڑے رہے اور ٹہلتے رہے۔ہر چند ڈاکٹر صاحب نے عرض کیا کہ حضورا تشریف رکھیں۔میں خود خادمہ سے پراٹھے پکڑ لونگا یا میری بیوی لے لیں گی۔مگر حضوڑ نے نہ مانا اور ہماری خاطر تواضع میں لگے رہے۔اس کھانے میں عمدہ سالن اور دودھ سو یاں وغیرہ کھانے بھی تھے۔1321 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔رحیمن اہلیہ صاحبہ قدرت اللہ صاحب ریاست پٹیالہ نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عادت تھی کہ روزانہ صبح سیر کے لئے جایا کرتے تھے۔صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم کی عمر اس وقت انداز آتین سال کی تھی۔میں اور حافظ حامد علی صاحب کی لڑکی آمنہ مرحومہ امتہ الحفیظ بیگم کو باری باری اٹھا کر ساتھ لے جاتی تھیں۔چونکہ حضور بہت تیز رفتار تھے۔اس لئے ہم پیچھے رہ جاتے تھے۔تو امتہ الحفیظ بیگم ہم سے کہتیں کہ ابا کے ساتھ ساتھ چلو۔اس پر میں نے کہا کہ میں تھک جاتی ہوں تم حضرت صاحب سے دعا کے لئے کہنا۔اس پر صاحبزادی نے حضرت صاحب سے کہا۔آپ نے فرمایا۔اچھا! ہم دعا کریں گے کہ یہ تم کو ہمارے ساتھ رکھے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ کو اور آمنہ کو اتنی طاقت دی کہ ہم صاحبزادی کو اٹھا کر ساتھ ساتھ لے جاتیں اور لے آتیں مگر تھکان محسوس نہ ہوتی۔