سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 13 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 13

سیرت المہدی 13 حصہ چہارم صاحب سے پوچھا کہ اس وسیلہ سے آپ کون سا وسیلہ مراد لیتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ نیک عملوں اور فوت شدہ بزرگوں کا وسیلہ۔میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو مشرکانہ تعلیم نہ دیں۔اس بات پر اس نے میرے ساتھ سخت کلامی کی اور گاؤں کے لوگوں کو برانگیختہ کیا۔جس پر گاؤں کے لوگ ہم سے الگ نماز پڑھنے لگے۔صرف میں اور میرے والد ہی اکٹھی نماز پڑھتے تھے۔میرے والد صاحب نے قادیان جا کر حضرت صاحب سے کہا کہ جناب میں نے تو اپنا لڑ کا مسلمان بنانے کے لئے آپ کی خدمت میں چھوڑا تھا لیکن اب تو لوگ اس کو کافر کہتے ہیں۔آپ نے اس وقت ایک سرخ کا غذ پر فتوی لکھوا کر میرے والد صاحب کو دیا کہ جولوگ آمین بالجبر ، الحمد للہ، رفع یدین اور فاتحہ خلف الامام کے پڑھنے پر کسی کو کافر کہے وہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک خود کا فر ہے۔مگر چند روز کے بعد عام لوگ خود بخودہی میرے پیچھے نماز پڑھنے لگ گئے۔اس کے بعد جب میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا کہ میاں نور محمد ! تم کو لوگ وہابی کہتے ہیں۔تم جواب دیا کرو کہ میں حضرت پیرانِ پیر کا مرید ہوں اور ان کی کتاب غنية الطالبين پڑھ کر اُن کو سنایا کرو اور حضرت صاحب ہمیشہ جناب پیران پیر اور امام غزالی کی تعریف فرمایا کرتے تھے۔1995 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا۔کہ ایک دفعہ خواب میں میری زبان پر لفظ "مسجد " جاری ہوا۔مگر اس وقت مجھے اس لفظ کی کوئی تشریح معلوم نہ ہوئی۔اور ایک لغت کی کتاب دیکھنے سے معلوم ہوا کہ اس کے معنے یہ ہیں کہ نیا کام کرنے والا “۔اس خواب کے چند روز بعد ایک بڑا لمبا چھوڑا اشتہار دیکھا جو کہ میر عباس علی صاحب لدھیانوی کی طرف سے شائع ہوا تھا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب چودھویں صدی کے مجدد ہیں۔اور جن ایام میں مسجد مبارک تیار ہوتی تھی تو حضرت صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ہم نے اس مسجد میں ایک مولوی رکھنا ہے جو عورتوں میں وعظ کیا کرے گا۔لیکن اب اللہ کے فضل و کرم سے بجائے ایک کے سینکڑوں مولوی مسجد مبارک میں موجودرہتے ہیں۔اُس زبان مبارک سے نکلی ہوئی باتیں اب ہم پوری ہوتی دیکھ رہے ہیں۔1996 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ بعض دفعہ احباب حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے یہ مسئلہ پوچھتے تھے کہ جب آدمی ایک دفعہ بیعت کر لے تو کیا یہ جائز ہے کہ