سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 191 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 191

سیرت المہدی 191 حصہ پنجم میر صاحب! آپ نے یہ کیا کہا؟ آپ کو نہیں معلوم کہ مومن کا کبھی دیوالہ نہیں نکلتا جو آتا ہے وہ اپنی قسمت ساتھ لاتا ہے، جب جاتا ہے تو برکت چھوڑ کر جاتا ہے۔یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ دیوالہ نکل جائے گا، پھر ایسی بات نہ کریں۔میر صاحب سبحان الله سبحان اللہ کہتے ہوئے واپس چلے گئے۔1289 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن دنوں مولوی کرم دین والے مقدمات چل رہے تھے۔تین اشخاص گورداسپور میں آئے انہوں نے بیعت کی اور بتایا کہ وہ بنارس کے رہنے والے ہیں۔بعدش بتکرار انہوں نے کہا کہ حضور ہمارے جانے کی دیر ہے، بنارس سے بہت لوگ حضور کی جماعت میں داخل ہو نگے۔پہلی دفعہ تو حضور خاموش رہے۔جب تیسری دفعہ انہوں نے کہا کہ ہمارے جانے کی دیر ہے بہت لوگ بیعت کر ینگے تو حضور علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ”تم اپنی خیر مانگو خدا جانے لوگ تمہارے ساتھ کیسے پیش آئیں گے۔“ ( ان تینوں میں ایک معمر اور وجیہہ بھی تھا) خدا جانے پھر کبھی ان کو میں نے نہیں دیکھا کہ ان کے ساتھ کیا گزری؟ واللهُ أَعْلَمُ 1289 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ عبد العزیز صاحب سابق پٹواری سیکھواں نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں یہاں قادیان میں بیمار ہوگئی اور دو جانور صدقہ کئے اور حضور کی خدمت میں عرض کی کہ کیا صدقہ کا گوشت لنگر خانہ میں بھیجا جاوے۔حضور نے فرمایا کہ یہ غرباء کا حق ہے۔غرباء کو تقسیم کیا جاوے۔چنانچہ غرباء کو تقسیم کیا گیا۔1290 بسم اللہ الرحمن الرحیم فضل بیگم صاحبہ اہلیہ مرزامحمود بیگ صاحب پٹی نے بواسطہ لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب میں پہلی بار قادیان آئی تو حضرت خلیفہ اسیح اول کے مکان پر ٹھہری۔تیسرے دن حضرت بیوی جی صاحبہ مجھے حضرت صاحب کے پاس لے گئیں۔حضرت صاحب نے فرمایا۔یہ کون ہے؟ حضرت اماں جان نے کہا کہ مرزافتح محمد صاحب کی بہو اور مرزا محمود بیگ صاحب کی بیوی ہیں اور پٹی سے آئی ہیں۔آپ نے فرمایا۔ہم جانتے ہیں مرزا صاحب سے ہماری خط و کتابت ہے۔پھر میں چلی آئی دوسرے دن میری بیعت ہوئی۔حضور جو لفظ فرماتے وہ اماں جان دہراتی جاتی