سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 190
سیرت المہدی 190 حصہ پنجم لئے عرض کی کہ میں موازی چار آنے ماہوار دیتا رہونگا انشاء اللہ۔حضور علیہ السلام نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ یہ چندہ دائی ہے۔میں نے عرض کی کہ میں سمجھتا ہوں کہ چندہ دائمی ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ ہمیشہ ادا کرتا رہونگا۔سو اللہ تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ اس نے مجھے توفیق دی کہ چندہ کو با قاعدہ ادا کرتا چلا آیا ہوں بلکہ زیادتی چندہ کی بھی توفیق دی ( صَدَقَ اللَّهُ تَعَالَى وَيُربي الصَّدَقَات) 1286 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ عبد العزیز صاحب سابق پٹواری سیکھواں نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میرے ساتھ میری ایک چھوٹی لڑکی تھی جس کا نام صغریٰ تھا۔مکی کی چھلیاں حضرت اُم المومنین (امان جان ) کے پاس دیکھ کر لڑکی نے خواہش کی۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ جلد دو۔زمینداروں کی لڑکیاں ایسی چیزوں سے خوش ہوتی ہیں تو آپ نے لڑکی کو چھلی دے دی۔1287 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ منشی نبی بخش صاحب نے بواسط لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ”جب منشی صاحب نے بیعت کی تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کا نام نبی بخش سے عبد العزیز رکھ دیا اور فرمایا۔”نبی کسی کو نہیں بخش سکتا۔1288 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔اہلیہ صاحبہ ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم ومغفور نے بواسطه لجنہ اماءاللہ قادیان بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں ایک دفعہ ۱۹۰۳ء میں قادیان سالانہ جلسہ پر آئی۔شام کا وقت تھا۔ڈاکٹر صاحب اور میرے بھائی اقبال علی صاحب میرے ساتھ تھے۔حضور علیہ السلام اس وقت اپنے پلنگ پر لیٹے ہوئے تھے۔مجھ سے پوچھا۔”راستہ میں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی تھی۔میں نے کہا نہیں۔فرمایا ” کتنے دن کی چھٹی ملی ہے۔میں نے کہا دس دن کی۔پھر فرمایا۔”راستہ میں سردی لگتی ہوگی۔میری گود میں عزیزہ رضیہ بیگم چند ماہ کی تھی۔آپ نے فرمایا چھوٹے بچوں کے ساتھ سفر کرنا بڑی ہمت کا کام ہے حضور مجھ سے باتیں کرتے تھے کہ اتنے میں میر ناصر نواب صاحب ( اس وقت وہ لنگر خانہ کے افسر اعلیٰ تھے ) آئے اور فرمایا۔حضرت مہمان تو کثرت سے آگئے ہیں، معلوم ہوتا ہے اب کے دیوالہ نکل جائے گا۔حضور کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا اور لیٹے لیٹے فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا۔