سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 188
سیرت المہدی 188 حصہ پنجم تھا۔خواہ مخواہ اُس نے بات منہ سے نکالی اس کی بات کا اثر ضرور ہم پر ہوا اور کوئی جواب اس کو نہ دیا گیا اور اپنے گاؤں چلے گئے۔جب دوسری دفعہ قادیان آئے اور حضرت صاحب کی خدمت میں پیش ہوئے تو حضور علیہ السلام نے بہت التفات اور محبت سے زور دار الفاظ میں فرمایا۔کہ دیکھو تم ہمارے مہمان ہو جب قادیان آیا کرو تو کھانا ہمارے ہاں کھایا کرو۔اور کسی جگہ سے مت کھانا کھاؤ۔“ ہم حیران بھی ہوئے اور خوش بھی ہوئے۔الحمد للہ علی ذالک۔1281 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بی بی رانی موحیہ والدہ عزیزہ بیگم موصیه زوجہ حکیم محمدعمر صاحب قادیان نے بواسطہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بیان کیا کہ میں نے ۱۹۰۱ء میں بذریعہ خط بیعت کی تھی۔چونکہ میری لڑکی عزیزہ بیگم اہلیہ حکیم محمد عمر صاحب قادیان میں تھیں۔اس واسطے مجھ کو بھی ۱۹۰۲ء میں قادیان آنے کی رغبت ہوئی میرے ساتھ میری چھوٹی لڑکی تھی۔جب حضرت صاحب صبح کو کسی وقت سیر کو باہر باغ کی طرف تشریف لے جاتے تھے تو میں بھی اکثر اوقات ساتھ جاتی تھی۔بوجہ معمر ہونے کے اور دیر ہو جانے کے باتیں یاد نہیں رہیں۔ہاں البتہ یہ یاد ہے کہ ایک دفعہ صبح کے وقت جب حضرت صاحب کھانا کھا رہے تھے میں بھی آگئی ، میری چھوٹی لڑکی نے رونا شروع کیا۔حضرت صاحب نے دریافت کیا تو عرض کی ، روٹی مانگتی ہے۔آپ نے روٹی منگوا کر دی مگر لڑ کی چپ نہ ہوئی۔حضور علیہ السلام کے دوبارہ دریافت کرنے پر عرض کیا کہ یہ وہ روٹی مانگتی ہے جو حضور" کھا رہے ہیں تب حضور نے وہ روٹی دی جو حضوڑ کھا رہے تھے۔سولڑکی نے وہ روٹی جو تھوڑی تھی لے لی اور چپ کر کے کھانے لگ گئی۔حضور کا یہ کریمانہ وفیاضانہ کام مجھ کو یاد ہے کہ حقیقۃ الوحی میں جو واقعہ غلام محی الدین لکھو کے کا درج ہے وہ یوں ہے کہ حضور نے چوہدری فتح محمد صاحب سیال کو فیروز پور ہمارےگھر بھیجا تھا کہ موضع لکھو کے جا کر ان کے گھر کے حالات دریافت کر کے آویں۔چنانچہ عزیزہ بیگم اہلیہ حکیم محد عمر صاحب اور میں جمعیت میرے لڑکے جسمی نور محمد مرحوم کے موضع لکھو کے جا کر تحقیق کر کے آئے تھے وہ واقعہ ہماری زبانی ہے۔میری لڑکی عزیزہ بیگم کو بہت حالات یاد ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔میرا لڑ کا نور محمد بہشتی مقبرہ میں کتبہ نمبر ۱۰۰ کے مطابق فوت ہو چکا ہے۔