سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 187 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 187

سیرت المہدی 187 بسم اللہ الرحمن الرحیم حصہ پنجم 1279 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔آمنہ بیگم والدہ محمود احمد نے بذریعہ تحریر بواسطہ والدہ خلیفہ صلاح الدین صاحب مجھ سے بیان کیا کہ میرے والدین نے ۱۹۰۱ء میں بذریعہ خط میری بیعت کرائی تھی۔بعد میں جب میں قادیان آئی تو حضور کے ہاتھ پر بیعت کی چونکہ حضور نے ہی میری شادی کروائی تھی۔شادی کے بعد زیورات وغیرہ کا کچھ جھگڑا ہو گیا مقدمہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے پاس ہوا اس لئے ہمیں حضور علیہ السلام نے قادیان ہی بلوالیا۔میں قادیان آئی اور دو دن حضور نے اپنے ہی گھر میں رکھا دونوں وقت لنگر خانہ سے کھانا آتا تھا لیکن پھر کبھی حضور اپنے پاس سے بخوشی تبرک کے طور پر بھی بچا ہوا کھانا بھیج دیتے تھے۔ہم جس دن آئے اسی دن ہی واپس جانے لگے تھے لیکن حضور نے فرمایا کہ ” جب تک تمہارے مقدمہ کا فیصلہ نہیں ہوتا ، یہیں پر رہو۔چنانچہ ہم دو دن رہے۔جب فیصلہ ہمارے حق میں ہو گیا تو حضور علیہ السلام نے میر از یور مجھے واپس دے دیا اور نہایت ہی محبت سے فرمانے لگے کہ بی بی تمہیں دودن اس لئے رکھا گیا تھا کہ لڑکیوں کو زیور سے بہت محبت ہوتی ہے اور تمہارا زیور اس لئے لے لیا گیا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ تم چلی جاتی اور زیور تمہارا فیصلہ ہونے تک یہیں رہتا اور تمہیں رنج ہوتا۔اب تمہارا زیور دے کر تمہیں جانے کی اجازت دیتے ہیں۔“ 1280 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب بشیر اول یا غالباً بشیر ثانی ( یعنی سید نا حضرت خلیفہ ثانی ) کا عقیقہ ہوا تو گول کمرے میں احباب کو کھانا کھلایا گیا تھا اس روز میں اور میرے بھائی صاحب میاں امام الدین جو مولوی جلال الدین صاحب شمس کے والد ہیں قادیان میں تھے اور دعوت میں شامل نہیں ہوئے تھے چونکہ ہماری قریبی رشتہ داری قادیان میں تھی اس لئے جب ہم قادیان آتے تھے تو وہاں سے ہی کھانا وغیرہ کھایا کرتے تھے اور وہ ہمارے بڑے خاطر گزار تھے۔حسب معمول عقیقہ کے روز ہم نے وہاں سے ہی کھانا کھایا تو ان کی ہمسایہ عورت نے کہا کہ آتے تو اُدھر ہیں اور کھانا یہاں سے کھاتے ہیں حالانکہ اُس عورت پر ہمارے کھانے کا کوئی بوجھ نہیں