سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 165
سیرت المہدی 165 حصہ چہارم گاؤں سے مشرق کی جانب ہے جس طرف حج کو جارہے ہیں۔جب میں حج کی جگہ پر پہنچی ہوں تو میں اکیلی ہوں اور سیڑھیوں پر چڑھ کر ایک مکان کی چھت پر جابیٹھی۔دیکھتی ہوں کہ ایک بچہ چھوٹی عمر کا وہاں بیٹھا ہے اور اس کے اردگرد بہت مٹھائیاں پڑی ہیں۔مجھے اس کو دیکھ کر اپنا بچہ جو کچھ عرصہ ہوئے فوت ہو گیا تھا یاد آیا۔تو اس بچہ نے میری طرف مخاطب ہو کر کہا کہ فکر نہ کرو۔اللہ تعالیٰ تمہیں اور بچہ دے گا جو اچھا ہو گا، نیک ہوگا اور بہت باتیں کیں۔جو مجھے یاد نہیں رہیں۔خیر اس نے یعنی میری بیوی نے کہا کہ میرے خیال میں وہ قادیان شریف ہی ہے۔پس مجھے بھی قادیان شریف لے چلو۔چنانچہ میں نے اس کو قادیان شریف میں لا کر بیعت میں داخل کر دیا۔الْحَمدُ لِلهِ عَلی ذَالِکَ۔بیعت کرنے کے بعد انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں آپ سے ایک بات کہتی ہوں اور وہ یہ ہے کہ مجھے قادیان شریف جانے سے نہ روکیں اور میں کوئی چیز نہیں چاہتی۔صرف میری یہی خواہش ہے۔چنانچہ اس میری بیوی کو اس قدر محبت قادیان شریف سے ہوئی کہ اس کو وہاں اپنے گاؤں میں رہنا نہایت نا پسند ہوا اور اس وقت تک اپنی آمد ورفت نہ چھوڑی جب تک قادیان شریف میں اپنا مکان نہ بنوالیا اور مکان بنا کر قریباً دو سال آباد ہو کر اس دار فانی کو چھوڑ کر مقبرہ بہشتی میں داخل ہوگئی۔انا لله وانا اليه راجعون۔1240 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ملک غلام محمد صاحب لاہور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں سید محمد علی شاہ صاحب سے اس معیار کے پیش نظر کہ انبیاء علیہ السلام کی پہلی زندگی ہر قسم کے عیبوں سے پاک اور معصومانہ ہوتی ہے۔عام طور پر حضور کی نسبت دریافت کرتا تھا۔ان کی زبانی جو باتیں مجھے معلوم ہیں وہ حسب ذیل ہیں۔سید محمد علی شاہ صاحب کہا کرتے تھے کہ مرزا صاحب بچپن سے پاک صاف اور نیک ہیں۔ان کی زندگی کی نسبت کوئی کسی قسم کا شبہ نہیں کر سکتا اور ان کے والد صاحب ان کو اکثر مسیتڑ“ کہا کرتے تھے۔اگر کوئی دریافت کرتا کہ مرزا غلام احمد صاحب کہاں ہیں ؟ تو وہ کہا کرتے تھے کہ مسجد میں جا کر دیکھ۔اگر وہاں نہ ملے تو نا امید نہ ہو جانا۔ملے گا بہر حال مسجد میں۔1241 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب حضور علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہ دعا رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَانْصُرُنِي