سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 164
سیرت المہدی 164 حصہ چہارم اظہار کیا اور اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر میرے ہمراہ قادیان پہنچے اور جب میں بیعت کر کے گھر میں پہنچا تو میری بیوی نے پوچھا کہ آپ سودا لینے گئے تھے اور اب خالی آ رہے ہیں تو میرے دل میں وہی خیال گذرا کہ شاید ناراض نہ ہو جاویں۔مگر میں نے اس کو سچ سچ کہہ دیا کہ میں قادیان شریف جا کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کر آیا ہوں۔اس پر انہوں نے کچھ نہ کہا۔1237 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ملک غلام محمد صاحب لاہور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میرے والد ملک بسوصاحب کے ایک دوست سید محمد علی شاہ صاحب قادیان کے رہنے والے تھے۔وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہم جولی اور بچپن کے دوست تھے۔ان کی بھتیجی کا رشتہ ان کے بھانجے شاہ چراغ کے ساتھ ہوا اور اس کی شادی پر میں قادیان گیا تھا۔اس وقت میری عمر تقریباً اٹھارہ سال کی تھی۔شاہ صاحب نے مجھ کو قریباً ایک ہفتہ وہاں رکھا۔اُن دنوں حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ ایسی اول مسجد اقصیٰ میں عصر کے بعد قرآن کریم کا درس دیا کرتے تھے۔شاہ صاحب کے حسب ہدایت میں درس سننے جایا کرتا تھا۔ان دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام صبح کے وقت سیر کو جایا کرتے تھے۔حضور علیہ السلام کے ساتھ بہت سے آدمیوں کا ایک ہجوم بھی ہوا کرتا تھا۔میں بھی حضور علیہ السلام کے ساتھ سیر کو کبھی کبھی جایا کرتا تھا۔مسجد مبارک ان دنوں چھوٹی سی ہوا کرتی تھی اور حضور مغرب کی نماز کے بعد مسجد میں شہ نشین پر بیٹھا کرتے تھے اور اکثر مذہبی باتیں اور دینی مسائل کے متعلق گفتگو ہوا کرتی تھی۔سیر میں بھی حضور علیہ السلام چلتے چلتے تقریر فرمایا کرتے تھے۔1238 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جن دنوں صاحبزادہ حضرت مولوی عبد اللطیف صاحب امیر حبیب اللہ والی کابل کے حکم سے شہید کئے گئے۔ان کے ذکر پر حضور نے فرمایا کہ اگر سلطنت کابل نے اپنی اصلاح نہ کی تو اس سلطنت کی خیر نہیں ہے۔“ 1239 ﴾ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فضل محمد صاحب دوکاندار محلہ دار الفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب میں دوبارہ بیعت کر کے واپس گھر گیا تو اس کے کچھ عرصہ کے بعد میری بیوی نے ایک خواب سنایا کہ آج میں خواب میں حج کو جارہی ہوں اور بہت لوگ بھی حج کو جارہے ہیں اور وہ جگہ ہمارے