سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 163 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 163

سیرت المہدی 163 حصہ چہارم 1235 ﴾ بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ سیاسی شورش کے متعلق فرمایا کہ ایک وقت آئے گا۔سوائے قادیان کے کہیں امن نہ ہوگا۔1236) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فضل محمد صاحب دوکاندار محلہ دار الفضل نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ جب پہلی دفعہ میں ( بادل ناخواستہ) بیعت کر کے واپس گھر گیا تو میرے دل میں یہی خیال آتا تھا کہ قادیان شریف کو لوگ بڑا بُرا کہتے ہیں اور میں نے تو وہاں اس جگہ سوائے قرآن شریف اور دینی باتوں کے اور کچھ نہیں سنا۔سب لوگ رات دن یاد الہی میں مشغول ہیں۔بس میں نے اس خیال کو مد نظر رکھ کر نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا کرنی شروع کی کہ اے میرے پیدا کرنے والے رب ! میرے محسن ! میں تیرا بندہ ہوں، گنہ گار ہوں ، بے علم ہوں۔میں نہیں جانتا کہ تیری رضا کے مطابق کون چلتا ہے؟ اس وقت دنیا میں کسی فرقے میں مجھے نہیں معلوم کہ کون فرقہ راستی پر ہے؟ پس اے میرے پیدا کرنے والے ! میں اس وقت اپنے آپ کو تیرے سپرد کرتا ہوں کہ تو مجھے اس راہ پر چلا جس پر تو راضی ہو۔تا کہ قیامت کے دن مجھے شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔اے میرے مولا! جب تو مجھے قیامت کو پوچھے گا تو میں اس وقت بھی یہی عرض کروں گا کہ میرے پیارے اللہ ! میں بے علم تھا اور میں نے اپنے آپ کو تیرے حضور رکھ دیا تھا اور بار بار یہی عرض کرتا تھا کہ اے میرے پیارے ! مجھے صحیح رستہ بتا اور اس پر مجھے چلنے کی توفیق بخش۔کئی دن کے بعد بٹالہ میں سودا بزازی وغیرہ خریدنے کے لئے گیا تو میں پہلے اُس دوست محمد اکبر صاحب کے پاس ملاقات کے لئے چلا گیا تو وہاں بھی یہی باتیں شروع ہو گئیں۔انہوں نے ذکر کیا کہ کل ایک سیٹھ صاحب مدراس سے تشریف لائے ہیں اور قادیان شریف گئے ہیں۔چنانچہ ایسی ایسی باتوں پر میرے دل میں ایسا جوش پیدا ہوا کہ میں نے اس دوست یعنی محمد اکبر صاحب کو کہا کہ اس روز آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر بیعت والوں میں شامل ہونے کے لئے حضور علیہ السلام کے ہاتھ پر رکھ دیا تھا اور میرا دل نہیں چاہتا تھا۔آج مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے دل میں جوش پیدا ہوا ہے اور اب میں اسی جگہ سے قادیان شریف جاتا ہوں اور سچے دل سے تو بہ کر کے بیعت میں داخل ہوتا ہوں۔اس پر میرے اس دوست نے نہایت خوشی کا