سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 10
سیرت المہدی 10 حصہ چہارم کہ شفاعت احمد ! اب تو نے مسیح موعود علیہ السلام سے یکطرفہ مباہلہ کر لیا ہے۔اب تو اس کے نتیجہ کا انتظار کر اور میں بھی کرتا ہوں۔اس کے بعد شفاعت احمد ایک سال کے عرصہ میں اس قدر بیمار ہوا کہ جان کے لالے پڑ گئے۔حتی کہ اس نے گھبرا کر احمدی جماعت سے دعا کی درخواست کی۔اس پر وہ مرنے سے تو بچ گیا مگر کانوں کی شنوائی جاتی رہی اور اس وقت وہ امرتسر میں ہے اس کا ایک اکلوتا بیٹا تھا وہ بھی مرگیا۔1990 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فیاض علی صاحب کپورتھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ مسجد کپورتھلہ کے مقدمہ میں ایک شخص ناظر عبدالاحد بھی مدعا علیہ تھا۔اس کے دو بیٹے تھے۔ایک سب انسپکٹر تھا اور دوسرا ایف اے پاس تھا۔دونوں ہی فوت ہو گئے۔اس کی بیوی کو بیٹوں کی موت کا بہت صدمہ ہوا اور وہ اپنے خاوند کو سمجھاتی رہی کہ دیکھ۔تو نے اپنے دو فرزند سیح موعود کی مخالفت میں زمین میں سلا دیئے۔اور اب تو اور کیا کرنا چاہتا ہے؟ غرض کہ مسجد احمد یہ کپورتھلہ کے مقدمہ میں جو بھی مدعا علیہ تھے۔اُن سب کا برا انجام ہو اور مسجد ہمارے قبضہ میں آئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی واضح طور پر پوری ہوئی۔1991 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فیاض علی صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا ہے کہ ہوشیار پور میں ایک شخص شیخ مہر علی رئیس تھے۔حضرت اقدس اس شخص کے گھر ٹھہرا کرتے تھے۔اور اس کو بھی حضور سے عقیدت تھی۔ایک مرتبہ حضرت اقدس نے خواب میں دیکھا کہ شیخ مہر علی کے بستر کو آگ لگ گئی ہے۔حضور نے اس رویاء کے متعلق اس کو خط لکھا اور اس میں ہدایت کی کہ آپ ہوشیار پور کی رہائش چھوڑ دیں۔وہ خط اس کے بیٹے کو مل گیا اور اس نے تکیہ کے نیچے رکھ دیا کہ جب بیدار ہوں گے پڑھ لیں گے مگر چونکہ خدائی امر تھا اور بستر کو آگ لگ چکی تھی وہ خط شیخ مہر علی صاحب کو نہ پہنچا اور ان کے بیٹے کو بھی اس کا ذکر کرنا یاد نہ رہا۔تھوڑے عرصہ بعد محرم آگیا اور اور ہوشیار پور میں ہندو مسلم فساد ہو گیا۔شیخ مہر علی صاحب اس کے سرغنہ قرار پائے اور ان کے خلاف عدالت میں بغاوت کا مقدمہ قائم ہو گیا۔عدالت سے ضبطی جائیداد اور پھانسی کا حکم ہوا۔اس حکم کے خلاف لاہور میں اپیل ہوا۔شیخ صاحب نے دعا کے واسطے حضرت صاحب سے استدعا کی۔حضور نے دعا فرمائی اور کہ دیا کہ اللہ تعالیٰ فضل کرے گا۔چنانچہ ہائی کورٹ میں اپیل منظور ہو گیا اور شیخ مہر علی بھی باعزت طور پر بری کئے گئے۔خواجہ کمال الدین صاحب کا اُن دنوں جالندھر میں لیکچر تھا۔