سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 9
سیرت المہدی 9 حصہ چہارم خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس وقت میر عنایت علی صاحب فوت ہو چکے ہیں۔بہت سادہ مزاج بزرگ تھے۔اور میر عباس علی صاحب ان کے چاتھے یہ میر عباس علی وہی ہیں جو بعد میں مرتد ہو گئے تھے۔988 بسم اللہ الرحمن الرحیم محمد خان صاحب ساکن گل منج تحصیل و ضلع گورداسپور نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑے جوش سے تقریر فرمائی۔اس تقریر میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ اللہ کے نام پر اپنے لڑکے دیں گے وہ بہت ہی خوش نصیب ہوں گے۔اُس زمانہ میں احمد یہ سکول کی بنیا د رکھی گئی تھی۔میں نے بھی اس وقت خدا سے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تو ہمیں بھی لڑکے عطا فرما تاکہ ہم حضرت صاحب کی حکم کی تعمیل میں اُن کو احمد یہ سکول میں داخل کرا دیں۔خدا تعالیٰ نے دعا کو سنا۔اور پانچ بچے دیئے جن میں سے تین فوت ہو گئے اور دو چھوٹے بچے رہ گئے۔پھر میں نے بموجب ارشاد حضرت صاحب بڑے لڑکے کو احمد یہ سکول میں اور چھوٹے کو ہائی سکول میں داخل کرا دیا۔اور اپنی وصیت کی بہشتی مقبرہ کی سند بھی حاصل کر لی۔989 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں فیاض علی صاحب کپورتھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا ہے کہ جب ہنری مارٹن کلارک پادری نے ایک بڑے منصوبے کے بعد حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پر قتل کا مقدمہ دائر کیا تو شفاعت احمد نے جن کا میں ایک روایت میں ذکر کر آیا ہوں۔مجھ سے کہا کہ مسجد تو ہمارے حاکم کے فوت ہو جانے کی وجہ سے ہمارے ہاتھ سے نکل گئی۔مگر اس مقدمہ قتل سے اگر مرزا صاحب بچ گئے تو میں ضرور احمدی ہو جاؤں گا۔میں نے اس کو جواب دیا کہ مسیح موعود نے فرما دیا ہے کہ مغرب کی طرف سے ایک آگ کا شعلہ آیا اور ہمارے مکان کے دروازہ پر آ کر گرا ہے۔مگر وہ گرتے ہی ایک خوشنما پھول بن گیا ہے۔پس انجام اس مقدمہ کا یہی ہوگا جو میں لکھ رہا ہوں۔آخر وہ مقدمہ حضرت صاحب کے حق میں فیصلہ ہوا اور پادریوں کو شرمندگی اُٹھانا پڑی۔خاکسار اس فیصلہ کے موقعہ پر عدالت میں حاضر تھا۔میں نے شفاعت احمد کو یاد دلایا کہ پیش گوئی تو پوری ہو گئی۔اب تم اپنے احمدی ہونے کا وعدہ پورا کرو۔شفاعت احمد نے صاف انکار کر دیا کہ میں نے تو کوئی وعدہ نہ کیا تھا بلکہ غصہ میں آکر کہنے لگا کہ اگر میں جھوٹ بولتا ہوں تو مجھ پر عذاب آئے اور میرا فرزند مر جائے۔میری بیوی مرجائے۔میں نے اُس سے کہا