سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 8
سیرت المہدی 8 حصہ چہارم حق میں لکھا جارہا ہے لیکن جب حکم سنانے کا موقعہ آئے گا تو مسجد احمد یوں کو دی جائے گی اور جس طرح کوئی بالا طاقت قلم کو روک دیتی ہے اور بے اختیار حاکم کے قلم سے احمدیوں کے حق میں فیصلہ لکھا دیتی ہے اور ہر ایک عدالت میں یہی بات ہوئی۔میں نے بھی خواب میں دیکھا کہ آسمان پر ہماری مسل پیش ہوئی اور ہمارے حق میں فیصلہ ہوا۔میں نے اپنا یہ خواب وکیل کو بتا دیا۔وہ مسل دیکھنے کے لئے عدالت گیا۔اُس نے آکر کہا کہ تمہارا خواب بڑا عجیب ہے کہ فیصلہ ہو گیا ہے، حالانکہ بیرسٹر کے پاس ابھی مسل بھیجی بھی نہیں گئی۔میں نے اُس سے کہا کہ ایک سب سے بڑا حاکم ہے اس کی عدالت سے فیصلہ آگیا ہے۔یہ دنیا کی عدالتیں اس کے خلاف نہیں جاسکیں گی۔آخر اس آریہ بیرسٹر نے احمدیوں کے حق میں فیصلہ کی رائے دی اور مسل واپس آگئی اور حکم سنادیا گیا۔ہمارے وکیل نے کہا کہ ظاہری صورت میں ہم حیران تھے کہ کس طرح مسجد تم کو مل سکتی ہے۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ تمہارے ساتھ خدا کی امداد ہے تبھی مسجد مل گئی۔لیکن افسوس ہے کہ اس پیشگوئی کے پورا ہونے پر بھی شفاعت احمد ایمان نہ لایا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مسجد احمد یہ کپورتھلہ کا واقعہ روایت نمبر ۷۹ میں بھی درج ہو چکا ہے اور شاید کسی اور روایت میں بھی جو مجھے اس وقت یاد نہیں۔987 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر عنایت علی شاہ صاحب لدھیانوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ خاکسار پہلی مرتبہ میر عباس علی صاحب کے ہمراہ قادیان آیا تھا۔میر صاحب نے آتے ہی گول کمرہ میں بیٹھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بذریعہ حافظ حامد علی صاحب اپنے آنے کی اطلاع دی کہ میر صاحب لدھیانہ سے آئے ہیں۔ہم اطلاع دیتے ہی بڑی مسجد میں نماز عصر پڑھنے کے لئے چلے گئے۔اس وقت اس مسجد میں کوئی نمازی نہ تھا۔جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے اور واپس گول کمرہ میں آئے تو حافظ صاحب نے کہا کہ میر صاحب! آپ کو حضرت صاحب او پر بلاتے ہیں۔اس پر میر صاحب پاؤں بر ہنہ ہی گئے۔حضور علیہ السلام نے مجھے دیکھ کر میر صاحب سے پوچھا۔یہی میر عنایت علی ہیں؟ انہوں نے جواب دیا ”جی ہاں، غرض اس طرح پہلی مرتبہ میری حضور سے ملاقات ہوئی۔