سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 142 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 142

سیرت المہدی 142 حصہ چہارم قسم کا تھا۔جو واپس بستہ میں ڈال دیا گیا۔اسی طرح کئی کاغذ دیکھے گئے اور واپس کئے گئے۔آخر کار دو کاغذ جن میں سے ایک ہندی میں لکھا ہوا تھا۔اور دوسرا مرز امام الدین کا خط محمدی بیگم کے متعلق تھا، لے کر عملہ پولیس واپس چلا گیا۔ایک دو ماہ بعد ایک سکھ انسپکٹر پولیس آیا اور وہی دونوں کا غذ واپس لایا۔حضرت صاحب نے اس کو ڈونگے دالان میں بلا لیا۔آداب عرض کرنے کے بعد اس نے ہندی کا خط حضرت کو دیتے ہوئے کہا کہ یہ تو جناب کا آٹے وغیرہ کے متعلق دوکاندار کا ٹو نبو ہے اور یہ دوسرا کا غذ کس کا ہے؟ حضرت صاحب نے فرمایا۔مرزا امام الدین کا ہے۔انسپکٹر نے کہا کہ اس کے متعلق مرزا امام الدین سے پوچھنا ہے کہ کیا یہ تمہارا ہے۔اس لئے مرزا امام الدین کی ضرورت ہے۔چنانچہ آدمی بھیج کر مرزا امام الدین کو بلوایا گیا۔انسپکٹر نے اس کو خط دکھا کر کہا کہ کیا یہ آپ کا خط ہے؟ اُس نے صاف انکار کر دیا کہ میرا نہیں۔تب انسپکٹر نے کاغذ اور قلم دوات منگوا کر مرزا امام الدین کو دیا کہ آپ لکھتے جائیں، میں بولتا جاتا ہوں۔انسپکٹر نے اس خط کی صرف دو سطر میں لکھوائیں۔پھر امام الدین کے ہاتھ سے لے کر اس کا لکھا ہوا کاغذ لے کر اصل خط کے مقابلہ میں رکھ کر دیکھنے لگا۔میں جھٹ انسپکٹر کی کرسی کے پیچھے جا کھڑا ہوا اور ان دونوں خطوں کو میں نے دیکھ کر انسپکٹر کو کہا کہ یہ دیکھئے قادیان کانون یا کے اوپر ڈالا گیا ہے اور گول نہیں بلکہ لمبا ہے۔اور دوسری تحریر میں بھی بالکل ویسا ہی ہے۔اور یہ دیکھئے لفظ ”بار میں“ کو بارہ میں لکھا ہوا ہے اور دوسری تحریر میں بھی بارہ میں“ ہے۔مجھے ساتھ لے جائیے۔میں ثابت کر دوں گا کہ یہ دونوں تحریریں ایک شخص کے ہاتھ کی ہی لکھی ہوئی ہیں۔یہ سن کر انسپکٹر نے اس خط کو ہاتھ سے پکڑ کر اوندھا اپنی ران پر مارتے ہوئے کہا کہ ”لجانا کتھے اے پتہ لگ گیا جوں ہی انسپکٹر نے یہ کہا تو مرزا امام الدین خود ہی بول پڑا کہ یہ خط میرے ہاتھ کا ہی لکھا ہوا ہے۔سب لوگ جو کھڑے تھے اس کے جھوٹ پر سخت انگشت بدندان ہوئے کہ ابھی اس نے کہا تھا کہ یہ خط میرا نہیں۔اب کہتا ہے کہ یہ خط میرا ہے۔تب انسپکٹر کھڑا ہو گیا اور حضرت صاحب کو وہ خط دے کر جانے کے لئے رخصت طلب کی۔لیکن ساتھ ہی کہا کہ میں بطور جج محمدی بیگم کی پیشگوئی کی نسبت جناب سے دریافت کرنا چاہتا ہوں۔حضرت صاحب نواڑی پلنگ کے اوپر کھڑے تھے اور انسپکٹر نیچے زمین پر کھڑا تھا۔اسی حالت میں کھڑے کھڑے حضرت صاحب نے تمام قصہ سنایا۔تب انسپکٹر سلام کر کے رخصت ہو کر واپس چلا گیا۔