سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 141
سیرت المہدی 141 حصہ چہارم اندر ڈونگے دالان میں گئے۔میں بھی اندر گیا۔دالان میں ہم صرف چاروں تھے۔دالان کے شمال مغربی کونے میں ڈھائی تین گز مربع کے قریب لکڑی کا ایک تخت بچھا تھا۔اس پر کاغذات کے پندرہ ہیں بستے بندھے پڑے تھے۔انسپکٹر نے دونوں ہاتھ زور سے بستوں پر مارے، گرد اٹھی۔انسپکٹر نے سپرنٹنڈنٹ پولیس کو مخاطب کر کے انگریزی میں کہا جس کا مطلب یہی معلوم ہوتا تھا کہ کسی قدر گر د ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ بہت مدت سے ان کو کسی نے ہاتھ نہیں لگایا۔انسپکٹر اور سپرنٹنڈنٹ پولیس دونوں مغرب کی طرف منہ کئے تخت کے پاس کھڑے تھے۔دونوں کا منہ بستوں کی طرف تھا۔میں مشرق کی طرف منہ کئے مغربی دیوار کے ساتھ کھڑا تھا۔حضرت صاحب مشرقی دیوار کے ساتھ دالان کی لمبائی میں اس طرح ٹہل رہے تھے جیسے کوئی بادشاہ ٹہلتا ہے۔لکڑی ہاتھ میں تھی اور درمیان سے پکڑی ہوئی تھی۔سپر نٹنڈنٹ پولیس اور انسپکٹر کی پشت حضرت صاحب کی طرف تھی۔انسپکٹر سپرنٹنڈنٹ سے باتیں تو کرتا تھا۔لیکن سپرنٹنڈنٹ جو انگریز تھا ( شاید لیمار چنڈ اس کا نام تھا ) اس کا دھیان بالکل حضرت صاحب میں تھا۔میں دیکھتا تھا جب حضرت صاحب اس کی پیٹھ کے پیچھے سے ہو کر جنوب کی طرف جاتے تو وہ کنکھیوں سے خفیف سا سر پھیر کر حضرت صاحب کو دیکھتا تھا۔اور جب حضرت صاحب اس کے پیچھے سے ہو کر شمال کی طرف جاتے تو سر پھیر کر پھر کنکھیوں سے حضرت صاحب کو دیکھتا تھا۔وہ بار بار یہی کچھ کرتا رہا۔انسپکٹر کی طرف اس کا دھیان نہ تھا۔پھر تجویز ہوئی کہ باقی مکان کی تلاشی لی جائے۔عصر کے بعد گول کمرہ کے باہر کھلے میدان میں کرسیاں بچھائی گئیں۔ایک پر سپرنٹنڈنٹ پولیس تھا۔اس کی دائیں طرف انسپکٹر تھا۔بائیں طرف حضرت صاحب کرسی پر تھے۔سامنے اس کے اور سپرنٹنڈنٹ سے پرے محمد بخش تھانیدار بٹالہ تھا۔حاکم علی سپاہی متعینہ قادیان سپرنٹنڈنٹ کو رومال ہلا رہا تھا۔درمیان میں زمین پر وہی بستے جو ڈونگے دالان کے تخت پر رکھے ہوئے تھے۔پڑے تھے۔محمد بخش نے ایک کاغذ ایک بستے میں سے نکالا اور مسکراتا ہوا کہنے لگا کہ یہ دیکھئے ثبوت۔انسپکٹر نے اس کاغذ کو لے کر پڑھا اور کہا یہ تو ایک مرید کی طرف سے پیشگوئی کے پورا ہونے کی مبارکباد ہے اور کچھ نہیں۔سپرنٹنڈنٹ پولیس نے بھی اس سے اتفاق کیا اور کاغذ واپس بستے میں ڈال دیا گیا۔محمد بخش نے پھر ایک اور کاغذ نکالا وہ بھی اسی