سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 140
سیرت المہدی 140 حصہ چهارم 1191 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ملک مولا بخش صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ صاحبزادہ مبارک احمد صاحب مرحوم جب بیمار تھے تو ان کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تشویش اور فکر کا علم ہوتا رہتا تھا۔جب صاحبزادہ صاحب فوت ہو گئے تو سردار فضل حق صاحب اور ڈاکٹر عباد اللہ صاحب مرحوم اور بندہ بخیال تعزیت قادیان آئے۔لیکن جب حضور مسجد میں تشریف لائے۔تو حضور حسب سابق بلکہ زیادہ خوش تھے۔صاحبزادہ مرحوم کی وفات کا ذکر آیا تو حضور نے فرمایا کہ مبارک احمد فوت ہو گیا۔میرے مولا کی بات پوری ہوئی۔اس نے پہلے ہی بتادیا تھا کہ یلڑکا یا تو جلدی فوت ہو جائے گا یا بہت باخدا ہو گا۔پس اللہ نے اُس کو بلا لیا۔ایک مبارک احمد کیا۔اگر ہزار بیٹا ہواور ہزار ہی فوت ہو جائے۔مگر میرا مولا خوش ہو۔اس کی بات پوری ہو۔میری خوشی اسی میں ہے۔یہ حالات دیکھ کر ہم میں سے کسی کو افسوس کے اظہار کی جرات نہ ہوئی۔1192 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ملک مولا بخش صاحب پنشنر کلرک آف کورٹ نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ مسجد مبارک کی چھت پر شام کی مجلس میں ایک امرتسری دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور مولوی ثناء اللہ بہت تنگ کرتا ہے۔اس کے لئے بددعا فرمائیں۔اس پر حضور نے فرمایا۔نہیں۔وہ ہماری بہت خدمت کرتے ہیں۔ان کے ذریعہ سے ہمارے دعوی کا ذکر ان لوگوں میں بھی ہو جاتا ہے جو نہ ہماری بات سنے کو تیار ہیں اور نہ ہماری کتابیں پڑھتے ہیں۔وہ تو ہمارے کھیت کے لئے کھاد کا کام دے رہے ہیں۔بدھ سے گھبرانا نہیں چاہئے۔1193 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔پیر منظور محمد صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ کہ ڈونگے دالان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پی پڑھ رہے تھے۔میں پاس بیٹھا تھا۔اطلاع آئی کہ سپر نٹنڈنٹ پولیس اور انسپکٹر پولیس آئے ہیں۔حضرت صاحب باہر تشریف لے گئے۔چھوٹی مسجد کی سیڑھیوں کی آخری اوپر کی سیڑھی پر سپرنٹنڈنٹ پولیس اندر کی طرف کھڑ ا تھا۔حضرت صاحب کو دیکھ کر اس نے ٹوپی اتاری اور کہا کہ مجھے لیکھرام کے قتل کے بارہ میں تلاشی کا حکم ہوا ہے۔حضور نے فرمایا۔بہت اچھا تلاشی میں میں آپ کو مدددوں گا۔تب حضرت صاحب اور سپرنٹنڈنٹ پولیس اور انسپکٹر