سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 113 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 113

سیرت المہدی 113 حصہ چہارم مولوی محمد حسین آٹھ سات آدمی تھے۔تمام صحن مسجد کا لوگوں سے پُر تھا۔ہزاروں آدمی تھے۔انگریز کپتان پولیس آیا۔کثرت ہجوم کی وجہ سے وہ گھبرایا ہوا تھا۔اس نے حضرت صاحب سے آکر پوچھا کہ آپ کا یہاں آنے کا کیا مقصد ہے؟ شیخ رحمت اللہ صاحب نے انگریزی میں اس سے ذکر کیا کہ یہ غرض ہے کہ حضرت صاحب دلائل وفات عیسی بیان کریں گے اور نذیر حسین قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ میچ نہیں۔وہ پھر نذیرحسین کے پاس گیا۔اور اُن سے پوچھا کہ تمہیں ایسی قسم منظور ہے۔اس نے کہا کہ میں قسم نہیں کھاتا۔اس نے آکر حضرت صاحب سے بیان کیا کہ وہ آپ کے دلائل سن کر قسم کھانے پر آمادہ نہیں۔اس لئے آپ چلے جائیں۔حضرت صاحب چلنے کے لئے کھڑے ہو گئے۔میں نے حضور کا ہاتھ پکڑ کر عرض کی کہ حضور ذرا ابھی ٹھہر جائیں اور میں نے شیخ رحمت اللہ صاحب سے کہا کہ آپ کپتان پولیس سے کہیں کہ پہلے فریق ثانی جائے پھر ہم جائیں گے۔پھر اس نے انہیں کہا۔اس پر وہ مصر ہوئے کہ پہلے ہم جائیں۔غرض اس بارہ میں کچھ قیل قال ہوتی رہی۔پھر کپتان پولیس نے قرار دیا کہ دونوں ایک ساتھ اُٹھ جائیں اور ایک دروازے سے وہ اور دوسرے سے ہم چلے جائیں۔غرض اس طرح ہم اُٹھے۔ہم بارہ آدمیوں نے حضرت صاحب کے گرد حلقہ باندھ لیا۔اور ہمارے گرد پولیس نے۔اس وقت دہلی والوں نے اینٹ پتھر بہت پھینکے۔نذیر حسین پر بھی اور ہم پر بھی۔ہم دریچے کی جانب والے دروازے سے باہر نکلے۔تو ہماری گاڑی جس میں ہم آئے تھے دہلی والوں نے کہیں ہٹا دی تھی۔کپتان پولیس نے ایک شکرم میں ہمیں سوار کرادیا۔کوچ میکس پر انسپکٹر پولیس، دونوں پائیدانوں پر دوسب انسپکٹر اور پیچھے سپاہی گاڑی پر تھے۔گاڑی میں حضرت صاحب، محمد خان صاحب ،منشی اروڑا صاحب ، خاکسار اور حافظ حامد علی صاحب تھے۔پھر بھی گاڑی پر اینٹ پتھر برستے رہے۔جب ہم چلے تو مولوی عبد الکریم صاحب پیچھے رہ گئے۔محمد خان صاحب گاڑی سے کود پڑے اور مولوی صاحب کے گرد لوگ جمع ہو گئے تھے جو محمد خان صاحب کو دیکھ کر ہٹ گئے اور محمد خان صاحب مولوی صاحب کو لے آئے۔1143 بسم الله الرحمن الرحیم۔شیخ کرم الہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ خاکسار دارالامان میں چند روز سے وارد تھا۔کہ ایک شام کو نماز مغرب کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ