سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 107
سیرت المہدی 107 حصہ چہارم اس بارہ میں ہوئی تو دہلی والوں نے کہا کہ جب مرزا صاحب اجازت دے گئے ہیں تو آپ کو روکنے کا کیا حق ہے۔ہم تو خود سمجھ گئے ہیں کہ یہ بالمقابل بیٹھ کر بحث نہیں کر سکتے۔پھر ہم نے مولوی صاحب کو چھوڑ دیا۔آخری مباحثہ تک مولوی بشیر احمد صاحب کا یہی رویہ رہا۔کبھی انہوں نے سامنے بیٹھ کر نہیں لکھا۔اجازت لے کر چلے جاتے۔ایک مولوی نے مولوی بشیر احمد صاحب کو کہا کہ بڑی بات آپ کی بحث میں نون ثقیلہ کی تھی مگر مرزا صاحب نے تو نون ثقیلہ کے پل باندھ دیئے۔بحث ختم ہونے پر چلتے چلتے مولوی بشیر احمد ملنے آئے اور حضرت صاحب سے کہا میرے دل میں آپ کی بڑی عزت ہے۔آپ کو جو اس بحث کے لئے تکلیف دی ہے میں معافی چاہتا ہوں۔غرض کہ وہ حضرت صاحب کا بڑا ادب کرتے تھے۔1133 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ دہلی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام واپس تشریف لے گئے۔میں کتا بیں واپس کرنے کے لئے ایک روز ٹھہر گیا۔جسے کتابیں دینے جاتا وہ گالیاں نکالتا۔مگر میں ہنس پڑتا۔اس پر وہ اور کوستے۔چونکہ ہمیں کامیابی ہوئی تھی اس لئے ان کی گالیوں پر بجائے غصے کے ہنسی آتی تھی اور وہ بھی بے اختیار۔1134 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ دہلی میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف فرما تھے۔تو ایک دن حضور شاہ ولی اللہ صاحب کے مزار پر تشریف لے گئے۔فاتحہ پڑھی اور فرمایا کہ یہ اپنے زمانے کے مجدد تھے۔1135 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ میں قادیان سے رخصت ہونے لگا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اجازت بھی دے دی۔پھر فرمایا کہ ٹھہر جائیں۔آپ دودھ کا گلاس لے آئے اور فرمایا یہ پی لیں۔شیخ رحمت اللہ صاحب بھی آگئے۔پھر اُن کے لئے حضور دودھ کا گلاس لائے اور پھر نہر تک ہمیں چھوڑنے کے لئے تشریف لائے۔اور بہت دفعہ حضور نہر تک ہمیں چھوڑنے کے لئے تشریف لاتے تھے۔1136 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔رسول بی بی بیوہ حافظ حامد علی صاحب نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن