سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 106
سیرت المہدی 106 حصہ چهارم گیا۔لیکن تھوڑی دیر میں اٹھ کر میں مولوی بشیر احمد صاحب کے پاس چلا گیا کہ دیکھوں انہوں نے ختم کیا ہے یا نہیں۔میں نے کہا مولوی صاحب پیسے ہوئے کو پینا یہ کوئی دانائی ہے؟ پھر مجھے مولوی عبدالکریم صاحب نے آوازیں دیں کہ تم یہاں آجاؤ۔میں پھر چلا گیا۔حضرت صاحب نے فرمایا آپ کیوں جاتے ہیں۔تیسری دفعہ میں پھر اُٹھ کر چلا گیا۔پھر حضرت صاحب او پر اُٹھ کر چلے گئے۔اور میرے متعلق کہا کہ یہ بہت جوش میں ہیں۔جب وہ لکھ چکیں تو مجھے بھیج دینا۔پھر جب وہ اپنا مضمون تیار کر چکے تو ہم نے حضرت صاحب کے پاس پہنچادیا۔آپ نے مجھے فرمایا کہ تم یہیں کھڑے رہو۔دو ورقہ جب تیار ہو جائے۔تو نقل کرنے کے لئے دوستوں کو دے دینا۔میں نے دیکھا کہ حضور نے اس مضمون پر صفحہ وار ایک اُچٹتی نظر ڈالی۔انگلی پھیر تے رہے اور پھر ورق الٹ کر اُس پر بھی انگلی پھیرتے ہوئے نظر ڈال لی۔اسے علیحدہ رکھ دیا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ پڑھا نہیں۔محض ایک سرسری نگاہ سے دیکھا ہے اور جواب لکھنا شروع کیا۔جب دو ورقہ تیار ہو گیا۔تو میں نیچے نقل کرنے کے لئے دے آیا۔دو ورقہ کو ایک ایک ورق کر کے ایک مولوی عبد الکریم صاحب نے نقل کرنا شروع کیا اور ایک عبدالقدوس نے۔اس طرح میں اوپر سے جب دو ورقہ تیار ہوتا لے آتا اور یہ نقل کرتے رہتے۔حضرت صاحب اس قدر جلدی لکھ رہے تھے کہ ایک دو ورقہ نقل کرنے والوں کے ذمہ فاضل رہتا تھا۔عبدالقدوس جو خود بہت زود نویں تھا حیران ہو گیا۔اور ہاتھ لگا کر سیاہی کو دیکھنے لگا کہ پہلے کا تو لکھا ہوا نہیں۔میں نے کہا کہ اگر ایسا ہو تو یہ ایک عظیم الشان معجزہ ہے کہ جواب پہلے سے لکھا ہو۔غرض اس طرح جھٹ پٹ آپ نے جواب لکھ دیا اور ساتھ ہی اس کی نقل بھی ہوتی گئی۔میں نے مولوی بشیر احمد کو وہ جواب دے دیا کہ آپ اس کا جواب لکھیں۔اس نے کہا کہ میں حضرت صاحب سے ملنا چاہتا ہوں۔ہم نے تو نہیں مگر کسی نے حضرت صاحب کو اطلاع کر دی کہ مولوی بشیر احمد صاحب ملنا چاہتے ہیں۔حضور فوراً تشریف لے آئے اور مولوی بشیر احمد صاحب نے کہا کہ اگر آپ اجازت فرمائیں تو میں کل کو جواب لکھ لاؤں گا۔آپ نے خوشی سے اجازت دے دی۔حضرت صاحب تو اوپر تشریف لے گئے۔مگر ہم ان کے پیچھے پڑ گئے کہ یہ کوئی بحث ہے۔اس طرح تو آپ بھوپال میں بھی کر سکتے تھے۔جب بہت کش مکش