سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 105 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 105

سیرت المہدی 105 حصہ چہارم دستیاب نہ ہوئی تھی۔اُس زمانے میں مولوی رحیم بخش صاحب فتح پوری مسجد کے متولی تھے۔وہ سید امام علی شاہ رنڑ چھتہ والوں کے خلیفہ تھے اور ان سے میرے والد صاحب مرحوم کے، جبکہ والد صاحب گجرات میں بندوبست میں ملازم تھے ، سید امام علی شاہ صاحب سے بہت عمدہ تعلقات قائم ہو گئے تھے۔رحیم بخش صاحب سے جب میں نے اس تعلق کا اظہار کیا تو وہ بہت خوش ہوئے۔میں نے اُن سے کتابیں طلب کیں۔انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ ہمارے ہو کر مرزا صاحب کے ساتھ کس طرح ہیں۔میں نے کہا کہ ان وہابیوں کی شکست ہماری فتح ہے۔کہنے لگے یہ بات تو ٹھیک ہے۔چنانچہ انہوں نے کتابیں دے دیں۔وہ بھی لا کر میں نے حضور کو دے دیں۔صحیح بخاری ابھی تک نہ ملی تھی۔پھر حبیب الرحمن صاحب مرحوم جو اسی اثناء میں حاجی پور سے دہلی آگئے تھے۔تو وہ اور میں مدرسہ شاہ عبدالعزیز میں گئے۔اور اس مدرسہ کے پاس میرے ماموں حافظ محمد صالح صاحب صدر قانون گود بلی کا مکان تھا۔وہاں جا کر ہم نے بخاری شریف کا آخری حصہ دیکھنے کے لئے مانگا۔انہوں نے دے دیا اور ہم لے آئے۔مولوی بشیر احمد صاحب مباحثہ کے لئے آگئے۔ایک بڑا المبادالان تھا جس میں ایک کوٹھڑی تھی۔اس کوٹھڑی میں مولوی عبد الکریم صاحب اور عبد القدوس غیر احمدی ایڈیٹر صحیفہ قدسی اور ہم لوگ بیٹھے تھے۔مولوی بشیر احمد آگئے۔ظاہراً بڑے خضر صورت تھے اور حضرت صاحب سے بڑے ادب اور تعظیم سے ملے اور معانقہ کیا اور بیٹھ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ کوئی ہار جیت کا معاملہ نہیں۔یہیں بیٹھے ہوئے آپ سوال کریں۔میں جواب دوں۔بات طے ہو جائے۔مگر اس کو یہ حوصلہ نہ ہوا کہ حضور کے سامنے بیٹھ کر سوال و جواب کر سکتا۔اُس نے اجازت چاہی کہ دالان میں ایک گوشہ میں بیٹھ کر لکھ لے۔دالان میں بہت سے آدمی مع علی جان والوں کے بیٹھے تھے۔حضور نے فرمایا۔بہت اچھا۔سو وہ سوالات جو اپنے گھر سے لکھ کر لایا تھا ایک شخص سے نقل کرانے لگا۔وہ بھی میرا واقف تھا۔مسجد دعلی خان اس کا نام تھا۔میں نے ان سے کہا کہ حضرت صاحب خالی بیٹھے ہوئے ہیں۔جب آپ سوال لکھ کر لائے ہیں تو دے دیں تا کہ حضور جواب لکھیں۔وہ کہنے لگے کہ یہ تو نوٹ ہیں۔حالانکہ وہ حرف بحرف نقل کرا رہے تھے۔دہلی والوں نے میرے خلاف شور کیا کہ آپ کیوں اس بارہ میں دخل دیتے ہیں۔مجھے مولوی عبد الکریم صاحب نے آواز دی کہ آپ یہاں آجائیں۔میں چلا