سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 104 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 104

سیرت المہدی 104 حصہ چہارم مولوی بشیر احمد صاحب بھوپالوی دہلی آگئے۔جن کو علی جان والوں نے مباحثہ کے لئے بلایا تھا۔علی جان والے ٹوپیوں کے بڑے سوداگر اور وہابی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس آ کر انہوں نے عرض کی کہ مولوی صاحب کو بھوپال سے آپ کے ساتھ مباحثہ کرنے کے لئے بلایا ہے۔شرائط مناظرہ طے کر لیجئے۔حضور نے فرمایا کہ کسی شرط کی ضرورت نہیں۔احقاق حق کے لئے یہ بحث ہے۔وہ آجائیں اور جو دریافت فرمانا چاہیں دریافت فرمالیں۔پھر ایک تاریخ مقرر ہوگئی۔مجھ کو اور پیر سراج الحق صاحب مرحوم کو حضور نے حکم دیا کہ آپ کچھ کتابیں اپنے واقفوں سے لے آئیں۔ہمیں تو ضرورت نہیں مگر انہی کے مسلمات سے ان کو ساکت کیا جاسکتا ہے۔ہم دونوں بہت جگہ پھرے لیکن کسی نے کتابیں دینے کا اقرارنہ کیا۔امام کی گلی میں مولوی محمد حسین صاحب فقیر رہتے تھے۔انہوں نے وعدہ کیا کہ جس قدر کتابوں کی ضرورت ہو کل لے جانا۔اگلے روز جب ہم گئے تو وہ نہ ملے اور ان کے بیٹوں نے ہمیں گالیاں دینی شروع کر دیں کہ جو ملحدوں کی مدد کرے وہ بھی ملحد ہے۔ہم دونوں ان کے پاس سے اٹھ کر چلے آئے۔پیر سراج الحق تو مجھ سے علیحدہ ہو کر کہیں چلے گئے۔میں تھوڑی دور کھڑا ہو کر اُن سے سخت کلامی کرنے لگ گیا۔وہاں آدمی جمع ہو گئے اور مجھ سے پوچھنے لگے کہ کیا بات ہے۔میں نے عرض کیا کہ امام اعظم کو یہ بُرا کہتے ہیں۔وہ کہنے لگے ہمیں معلوم ہے کہ یہ بڑے بے ایمان ہیں۔یہ چھپے ہوئے وہابی ہیں۔وہابیوں کی مسجد میں نماز پڑھنے جایا کرتے ہیں۔چنانچہ وہ لوگ میرے ساتھ ہو کر ان کے خلاف ہو گئے۔پھر میں وہاں سے چلا آیا۔جب امام صاحب کے مکان کے آگے سے گزرا۔تو انہوں نے مجھے اشارہ کر کے اپنی بیٹھک میں بلالیا اور کہنے لگے کہ آپ کسی سے ذکر نہ کریں تو جس قدر کتا بیں مطلوب ہیں۔میں دے سکتا ہوں۔میں نے کہا آپ اتنا بڑا احسان فرمائیں تو میں کیوں ذکر کرنے لگا۔کہنے لگا کہ جب مرزا صاحب مولوی نذیرحسین سے قسم لینے کے لئے جامع مسجد میں بیچ کے دروازے میں بیٹھے ہوئے تھے۔اس وقت میں دیکھتا تھا کہ انوار الہی آپ پر نازل ہوتے ہیں اور آپ کی پیشانی سے شان نبوت عیاں تھی مگر میں اپنی عقیدت کو ظاہر نہیں کر سکا۔خیر میں یہ کتا بیں لے کر چلا آیا۔اور حضرت صاحب کی خدمت میں پیش کر دیں آپ بہت خوش ہوئے۔اس پر دہلی والوں نے کہا تھا ( ہولی ہے بھئی ہولی ہے پاس کتابوں کی جھولی ہے ) تفسیر مظہری اور صحیح بخاری