سیرت المہدی (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 103 of 438

سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 103

سیرت المہدی 103 حصہ چہارم چاہئے۔تو آپ فرماتے۔ہم اگر کوئی بدی کریں گے تو خدا دیکھتا ہے۔ہماری طرف سے کوئی بات نہیں ہونی چاہئے۔1131 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ دہلی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک خط بھیجا۔لفافہ پر محمد خان صاحب ہمنشی اروڑ ا صاحب اور خاکسار تینوں کا نام تھا۔خط میں یہ لکھا ہوا تھا۔کہ یہاں کے لوگ اینٹ پتھر بہت پھینکتے ہیں۔اور علانیہ گالیاں دیتے ہیں۔میں بعض دوستوں کو اس ثواب میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔اس لئے تینوں صاحب فوراً آجائیں۔ہم تینیوں کچہری سے اُٹھ کر چلے گئے۔گھر بھی نہیں آئے۔کرتار پور جب پہنچے تو محمد خان اور منشی اروڑا صاحب نے مجھے ٹکٹ لانے کے لئے کہا۔میرے پاس کچھ نہیں تھا۔مجھے یہ خیال ہوا کہ اپنے کرایہ کے لئے بھی اُن سے لے لوں انہوں نے اپنے ٹکٹوں کا کرایہ مجھے دے دیا تھا۔میں نے اُن دونوں کے ٹکٹ لے لئے اور گاڑی آگئی۔چوہدری رستم علی خان صاحب مرحوم گاڑی میں کھڑے آواز دے رہے تھے کہ ایک ٹکٹ نہ لینا میرے ساتھ سوار ہو جانا۔میں چوہدری صاحب مرحوم کے ساتھ بیٹھ گیا۔اور ہم دہلی پہنچ گئے۔دہلی میں حضرت صاحب نے ایک بڑا دومنزلہ مکان کرایہ پر لیا ہوا تھا۔اوپر زنانہ تھا اور نیچے مردانہ رہائش تھی۔واقعہ میں روز صبح و شام لوگ گالی گلوچ کرتے تھے اور ہجوم اینٹ پتھر پھینکتا تھا۔انسپکٹر پولیس جواحمدی تو نہ تھا۔لیکن احمدیوں کی امداد کرتا تھا اور ہجوم کو ہٹا دیتا تھا۔ایک دن مرزا حیرت آیا۔میں اس وقت کہیں گیا ہوا تھا۔اس نے آکر حضرت صاحب کو بلوایا۔اور کہا کہ میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس ہوں اور مجھے ہدایت ہوئی ہے کہ میں آپ سے دریافت کروں کہ آپ کس غرض کے لئے آئے ہیں اور کس قدر عرصہ ٹھہریں گے اور اگر کوئی فساد ہوا تو اس کا ذمہ وار کون ہو گا۔آپ مجھے اپنا بیان لکھا دیں۔اسی اثناء میں میں آگیا۔میں اس کو جانتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان لکھارہے تھے اور میں یہ دیکھ کر زینے سے نیچے اتر آیا۔اس نے مجھے دیکھ لیا اور اُتر کر بھاگ گیا۔میں دراصل پولیس میں اطلاع دینے کے لئے اترا تھا اس کو اترتے ہوئے دیکھ کر ایک عورت نے جواو پر تھی اسے برا بھلا کہا۔1132 بسم اللہ الرحمن الرحیم منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ