سیرت المہدی (جلد دوم) — Page 95
سیرت المہدی 95 حصہ چہارم کیا۔لیکن میں اپنی مالی حالت اور دیگر مصالح کی بناء پر اس کی جرأت نہ کر سکا۔آخر مولوی صاحب نے معالجہ تجویز کرتے ہوئے فرمایا کہ اس دفعہ ان ادویات کا استعمال صورت حمل کے شروع دو ماہ سے کر کے ساری مدت حمل میں کراتے رہو۔چنانچہ اس کے مطابق عمل شروع کر دیا گیا۔جب چھ سات ماہ کا عرصہ گزر گیا اور میری اہلیہ کو مرض بخار اور اسہال وغیرہ نے آگھیرا جو خرابی جگر وغیرہ کا نتیجہ تھا۔خاکسار نے حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں مفصل حال عرض کیا۔مولوی صاحب نے حالات سن کر بڑی تشویش کا اظہار کیا اور فرمایا ایسی صورت میں نہ صرف بچہ کی طرف سے اندیشہ ہے بلکہ ایسی کمزوری اور دیر سینہ مرض میں مولود کی ماں کے لئے بھی سخت خطرہ ہے۔اور خاکسار سے فرمایا کہ نسخہ تو ہم تجویز کریں گے لیکن میری رائے میں ایسے موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خاص موقعہ لے کر دعا بھی کرائی جائے۔اس پر میں نے عرض کیا کہ خاص وقت ملنا بھی تو مشکل ہے۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ اس کے حصول کی تجویز یہ ہے کہ آپ ایک رقعہ اس مضمون کا لکھ کر دیں کہ میں ایک بات عرض کرنے لئے چند منٹ خلوت چاہتا ہوں۔حضرت صاحب کے پاس اندر بھیجو۔حضرت صاحب اندر بلا لیں گے۔اُس وقت یہ استدعا اور ضرورت خاص عرض کر دینا تو حضرت فور ادعا فرمائیں گے۔چنانچہ خاکسار نے اس مضمون کا رقعہ لکھ کر پیراں دتا جو کہ حضرت صاحب کا خادم تھا، کے ہاتھ بھجوادیا کہ وہ حضور کے پیش کر دے۔اُس نے تھوڑی دیر کے بعد واپس آکر بتلایا کہ حضرت اقدس نے رقعہ پڑھ کر فرمایا کہ ہم کوئی ضروری مضمون تحریر کر رہے ہیں۔درمیان میں مضمون کا چھوڑ نامناسب نہیں۔اس لئے فرصت نہیں پھر فرصت کے وقت دیکھا جائے گا۔خاکسار نے مولوی صاحب سے اس کا ذکر کیا تو مولوی صاحب نے فرمایا کہ اب تو وقت نہیں ملے گا۔کیونکہ کل پٹیالہ کو واپس جانا چاہتے ہو۔پٹیالہ جا کر مفصل خط حضرت صاحب کے نام لکھ دینا۔حضرت صاحب خطوط پر دعا فرما دیتے ہیں اور جواب بھی دیتے ہیں۔اس لئے ایک ہی بات ہے۔اگلے دن صبح خاکسار کا روانگی کا ارادہ تھا۔صبح کی نماز سے فارغ ہو کر حضرت صاحب مسجد مبارک کی چھت پر تشریف فرما تھے اور خاکسار اس انتظار میں تھا کہ موقعہ ملے تو حضرت صاحب سے رخصتی مصافحہ کیا جائے۔کہ حضرت صاحب کی نظر مبارک مجھ پر پڑی تو میرے کچھ عرض کرنے کے بغیر حضور نے فرمایا ! کل آپ کا رقعہ پیراں دتالا یا تھا ہم اس وقت