سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 84 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 84

سیرت المہدی 84 حصہ اوّل پر گرائے گا۔اور گرا رہا ہے۔خان صاحب کہتے تھے کہ مولوی الہی بخش صاحب نے یہ الفاظ ایسے طریق پر کہے تھے جس میں کچھ احسان پایا جاتا تھا۔خان صاحب بیان کرتے تھے کہ دوسرے دن جب مولوی صاحب اور ان کے ساتھی واپس جانے لگے تو حضرت صاحب سے ملنے آئے۔میں بھی وہیں تھا میں نے مولوی صاحب سے پوچھا کہئے مولوی صاحب اب کوئی اعتراض تو باقی نہیں رہا۔مولوی صاحب نے کہا نہیں میری تسلی ہو گئی ہے۔میں نے کہا تو پھر بیعت؟ حضرت صاحب نے فرمایا خان صاحب یہ کہنا آپ کا حق نہیں ہے۔ہمارا کام پہنچا دینا ہے آگے ماننا یا نہ ماننا ان کا کام ہے۔خیر وہ واپس چلے گئے۔تیسرے چوتھے دن حضرت صاحب قادیان آئے اور میں بھی آیا تو حضور نے مجھے بلا کر مسکراتے ہوئے اپنے رومال سے ایک پوسٹ کارڈ کھولا اور میری طرف پھینکا اور فرمایا تحصیل دار صاحب ! آپ جلدی کرتے تھے لیجئے ان کا خط آ گیا ہے۔میں نے خط دیکھا تو مولوی الہی بخش صاحب کا تھا اور پنسل سے لکھا ہوا تھا جو انہوں نے راستہ میں لکھنو سے بھیجا تھا۔اس میں انہوں نے لکھا تھا کہ میں نے ریل میں بیٹھے ہوئے خیال کیا کہ اب جبکہ مجھ پر حق کھل گیا ہے تو اگر میں راستہ میں ہی مر جاؤں تو خدا کو کیا جواب دوں گا اس لئے میں حضور کے سلسلہ میں داخل ہوتا ہوں میری بیعت قبول فرمائی جاوے۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ جب آدمی الگ ہوتا ہے تو پھر اسے سوچنے کا اچھا موقعہ ملتا ہے اور گذشتہ باتوں پر غور کر کے وہ کسی نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے۔هو 107 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی سید سرور شاہ صاحب نے کہ جن دنوں میں گورداسپور میں کرم دین کے ساتھ مقدمہ تھا اور مجسٹریٹ نے تاریخ ڈالی ہوئی تھی اور حضرت صاحب قادیان آئے ہوئے تھے حضور نے تاریخ سے دو روز پہلے مجھے گورداسپور بھیجا کہ میں جا کر وہاں بعض حوالے نکال کر تیار رکھوں کیونکہ انگلی پیشی میں حوالے پیش ہونے تھے۔میرے ساتھ شیخ حامد علی اور عبدالرحیم نائی باورچی کو بھی حضور نے گورداسپور بھیج دیا۔جب ہم گورداسپور مکان پر آئے تو نیچے سے ڈاکٹر محمد اسماعیل خان صاحب مرحوم کو آواز دی کہ وہ نیچے آویں اور دروازہ کھولیں۔ڈاکٹر صاحب موصوف اس وقت مکان میں اوپرھ او پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ہمارے آواز دینے پر ڈاکٹر صاحب نے بے تاب ہوکر رونا اور چلا نا شروع کر دیا۔ہم نے کئی آوازیں دیں مگر وہ اسی طرح روتے رہے آخر تھوڑی دیر کے بعد وہ آنسو پونچھتے ہوئے نیچے آئے۔ہم نے سبب پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میرے پاس محمد حسین منشی آیا تھا۔مولوی صاحب کہتے تھے کہ محمد حسین