سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 83 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 83

سیرت المہدی 83 حصہ اوّل محمد احسن صاحب اپنی طرف سے تو اصلاح کرتے ہیں مگر میں دیکھتا ہوں کہ میرا لکھا ہوا لفظ زیادہ برمحل اور فصیح ہوتا ہے اور مولوی صاحب کا لفظ کمزور ہوتا ہے لیکن میں کہیں کہیں انکا لکھا ہوا لفظ بھی رہنے دیتا ہوں تا ان کی دل شکنی نہ ہو کہ ان کے لکھے ہوئے سب الفاظ کاٹ دیئے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود کا قاعدہ تھا کہ عربی کتب کی کاپیاں اور پروف سلسلہ کے علماء کے پاس یہ کہہ کر بھجوا دیتے تھے کہ دیکھو کوئی اصلاح ہو سکے تو کر دو۔اور اس کا رروائی سے ایک مطلب آپ کا یہ بھی ہوتا تھا کہ یہ لوگ اس طریق سے حضور کی تصانیف پڑھ لیں اور حضور کی تعلیم اور سلسلہ سے واقف رہیں۔یہ خاکسار کا اپنا خیال ہے کسی روایت پر مبنی نہیں۔105 بسم الله الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حافظ روشن علی صاحب نے کہ حضرت مسیح موعود نے جن دنوں میں اَيَا أَرضَ مُةٍ قَدْ دَفَاكِ مُدَمِّرُ والا قصیدہ اعجاز احمدی میں لکھا تو اسے دوبارہ پڑھنے پر باہر آکر حضرت خلیفہ اول سے دریافت فرمانے لگے کہ مولوی صاحب کیا آیا بھی ندا کیلئے آتا ہے۔؟ عرض کیا گیا ہاں حضور بہت مشہور ہے۔فرمایا شعر میں لکھا گیا ہے ہمیں خیال نہیں تھا۔نیز حافظ صاحب بیان کرتے ہیں کہ کئی دفعہ حضور فرماتے تھے کہ بعض الفاظ خود بخود ہمارے قلم سے لکھے جاتے ہیں اور ہمیں ان کے معنی معلوم نہیں ہوتے۔حافظ صاحب کہتے ہیں کہ کئی دفعہ حضرت صاحب سے ایسا محاورہ لکھا جاتا تھا کہ جس کا عام لغت میں بھی استعمال نہ ملتا تھا لیکن پھر بہت تلاش سے پتہ چل جاتا تھا۔106 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے مولوی ذوالفقار علی خان صاحب نے کہ جب کرم دین کے مقدمہ کے لئے حضرت صاحب گورداسپور میں تھے تو وہاں آپ کے پاس الہ آباد کے تین غیر احمدی مہمان آئے جن میں سے ایک کا نام مولوی الہی بخش تھا۔ان کی حضرت صاحب سے گفتگو ہوتی رہی آخر وہ قائل ہو گئے۔ایک دفعہ جب حضرت صاحب مکان کے صحن میں ٹہل رہے تھے اور مولوی الہی بخش صاحب بھی ساتھ ساتھ پھرتے تھے۔مولوی الہی بخش صاحب نے حضرت صاحب سے کہا کہ اگر میں نے بیعت کر لی تو میرے ساتھ اور بہت سے لوگ بیعت کریں گے۔حضرت صاحب چلتے چلتے ٹھہر گئے اور آپ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ نے فرمایا مجھے کیا پر وا ہے یہ خدا کا کام ہے وہ خودلوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر میرے پاؤں