سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 825
سیرت المہدی 825 حصہ سوم آپ میں ایک مقناطیسی جذب تھا۔ایک عجیب کشش تھی ، رعب تھا ، برکت تھی ، موانست تھی ، بات میں اثر تھا، دُعا میں قبولیت تھی ، خدام پروانہ وار حلقہ باندھ کر آپ کے پاس بیٹھتے تھے۔اور دلوں سے زنگ خود بخوددُھلتا جاتا تھا۔بے صبری۔کینہ۔حسد ظلم۔عداوت۔گندگی۔حرص دنیا۔بدخواہی۔پردہ دری۔غیبت۔کذب۔بے حیائی۔ناشکری۔تکبر۔کم ہمتی۔بجل۔ترش روئی و سمج خلقی۔بُزدلی۔چالا کی۔فحشاء۔بغاوت۔بجز۔کسل۔ناامیدی۔ریا۔تفاخر نا جائز۔دل دکھانا۔استہزاء تمسخر۔بدظنی۔بے غیرتی۔تہمت لگانا۔دھوکا۔اسراف و تبذیر۔بے احتیاطی۔چغلی۔لگائی بجھائی۔بے استقلالی۔لجاجت۔بے وفائی۔لغوحرکات یا فضولیات میں انہماک ، ناجائز بحث و مباحثہ۔پُرخوری - کن رہی۔افشائے عیب۔گالی۔ایذاء رسانی۔سفلہ پن۔ناجائز طرفداری۔خود بینی۔کسی کے دُکھ میں خوشی محسوس کرنا۔وقت کو ضائع کرنا۔ان باتوں سے آپ کوسوں دور تھے۔آپ فصیح و بلیغ تھے۔نہایت عقلمند تھے۔دوراندیش تھے۔بچے تارک الدنیا تھے۔سلطان القلم تھے اور حسب ذیل باتوں میں آپ کو خاص خصوصیت تھی۔خدا اور اس کے رسول کا عشق ،شجاعت ، محنت ، تو حید و توکل علی اللہ، مہمان نوازی ، خاکساری ، اور نمایاں پہلو آپ کے اخلاق کا یہ تھا کہ کسی کی دل آزاری کو نہایت ہی نا پسند فرماتے تھے۔اگر کسی کو بھی ایسا کرتے دیکھ پاتے تو منع کرتے۔آپ نماز با جماعت کی پابندی کرنے والے، تہجد گزار ، دُعا پر بے حد یقین رکھنے والے ،سوائے مرض یا سفر کے ہمیشہ روزہ رکھنے والے ،سادہ عادات والے سخت مشقت برداشت کرنے والے اور ساری عمر جہاد میں گزارنے والے تھے۔آپ نے انتقام بھی لیا ہے۔آپ نے سزا بھی دی ہے۔آپ نے جائز بختی بھی کی ہے۔تادیب بھی فرمائی ہے یہاں تک کہ تادیبا بعض دفعہ بچہ کو مارا بھی ہے۔ملازموں کو یا بعض غلط کا رلوگوں کو نکال بھی دیا ہے۔تقریر تحریر میں تختی بھی کی ہے۔عزیزوں سے قطع تعلق بھی کیا ہے۔بعض خاص صورتوں میں توریه کی اجازت بھی دی ہے۔بعض وقت سلسلہ کے دشمن کی پردہ دری بھی کی ہے۔( مثلاً مولوی محمد حسین بٹالوی