سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 824 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 824

سیرت المہدی 824 حصہ سوم پہنچ جاتے۔اور کہتے ”با چٹی ( چٹی شکر کو کہتے تھے کیونکہ بولنا پورا نہ آتا تھا۔اور مراد یہ تھی کہ چھٹے رنگ کی شکر لینی ہے ) حضرت صاحب پھر اٹھ کر ان کا سوال پورا کر دیتے۔غرض اس طرح ان دنوں میں روازانہ کئی کئی دفعہ یہ ہیرا پھیری ہوتی رہتی تھی۔مگر حضرت صاحب باوجود تصنیف میں سخت مصروف ہونے کے کچھ نہ فرماتے۔بلکہ ہر دفعہ ان کے کام کے لئے اٹھتے تھے۔یہ ۱۸۹۵ ء یا اس کے قریب کا ذکر ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ میری پیدائش اپریل ۱۸۹۳ء کی ہے۔973 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اصل میں عربی زبان کی ستائیس لاکھ لغت ہے جس میں سے قرآن مجید میں صرف چار ہزار کے قریب استعمال ہوئی ہے۔عربی میں ہزار نام تو صرف اُونٹ کا ہے اور چارسو نام شہد کا۔974 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت خلیفۃ المسیح اول فرمایا کرتے تھے کہ ہر نبی کا ایک کلمہ ہوتا ہے۔مرزا کا کلمہ یہ ہے کہ میں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔“ 975 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے اخلاق میں کامل تھے۔یعنی:۔آپ نہایت رؤف رحیم تھے تھی تھے۔مہمان نواز تھے۔اشجع الناس تھے۔ابتلاؤں کے وقت جب لوگوں کے دل بیٹھے جاتے تھے آپ شیر نر کی طرح آگے بڑھتے تھے۔عفو، چشم پوشی ، فیاضی، دیانت، خاکساری، صبر، شکر، استغناء، حیا، غض بصر ، عفت ، محنت ، قناعت، وفاداری، بے تکلفی ، سادگی، شفقت، ادب الهی ، ادب رسول و بزرگان دین، حلم، میانه روی، ادا ئیگی حقوق، ایفائے وعدہ۔چستی ، ہمدردی، اشاعت دین، تربیت حسن معاشرت، مال کی نگہداشت، وقار،طہارت، زندہ دلی اور مزاح، راز داری، غیرت، احسان، حفظ مراتب حسن ظنی ، ہمت اور اولوالعزمی ،خودداری ، خوش روئی اور کشادہ پیشانی کظم غیظ، کف ید وکف لسان، ایثار معمور الاوقات ہونا، انتظام،اشاعت علم ومعرفت ،خدا اور اس کے رسول کا عشق ، کامل اتباع رسول، ی مختصراً آپ کے اخلاق و عادات تھے۔