سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 823 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 823

سیرت المہدی 823 حصہ سوم یہ احساس بھی شامل ہے کہ جب ایک کام کا خیال پیدا ہو تو جب تک وہ کام ہو نہ جاوے۔چین نہ لیا جاوے اور اس کی وجہ سے طبیعت میں گھبراہٹ رہے۔970 بسم اللہ الرحمن الرحیم سیٹھی غلام نبی صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دن بڑی مسجد میں بیٹھے تھے۔مسجد کے ساتھ جو گھر ہندوؤں کے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جگہ اگر مسجد میں شامل ہو جائے تو مسجد فراخ ہو جاوے۔حضور کے چلے جانے کے بعد حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ آج مرزا نے یہ سارے مکان لے لئے۔سواب آ کر حضور علیہ السلام کا وہ ارشاد پورا ہوا کہ یہ مکانات مسجد میں مل گئے۔ہمارا تو اس وقت بھی ایمان تھا کہ حضرت صاحب کی سرسری باتیں بھی پوری ہو کر رہیں گی۔کیونکہ حضور بن بلائے بولتے نہ تھے۔971 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کوئی شاذ و نادر ہی مجلس ایسی ہوتی ہوگی۔جس میں پر پھر کر وفات مسیح ناصری علیہ السلام کا ذکر نہ آجا تا ہو۔آپ کی مجلس کی گفتگو کا خلاصہ میرے نزدیک دو لفظوں میں آجاتا ہے ایک وفات مسیح اور دوسرے تقوی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ وفات مسیح عقائد کی اصلاح اور دوسرے مذاہب کو مغلوب کرنیکے کام کا خلاصہ تھا اور تقویٰ اصلاح نفس کا خلاصہ ہے۔مگر آج کل وفات مسیح سے بحث کا میدان بدل کر دوسری طرف منتقل ہو گیا ہے۔972 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میاں بشیر احمد صاحب ( یعنی خاکسار مؤلف ) جب چھوٹے تھے تو ان کو ایک زمانہ میں شکر کھانے کی بہت عادت ہوگئی تھی۔ہمیشہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس پہنچتے اور ہاتھ پھیلا کر کہتے ”ابا جیٹی حضرت صاحب تصنیف میں بھی مصروف ہوتے تو کام چھوڑ کر فوراً اٹھتے۔کوٹھڑی میں جاتے۔شکر نکال کر ان کو دیتے۔اور پھر تصنیف میں مصروف ہو جاتے۔تھوڑی دیر میں میاں صاحب موصوف پھر دستِ سوال دراز کرتے ہوئے