سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 813 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 813

سیرت المہدی 813 حصہ سوم مولوی صاحب اُٹھ کر گھر چل پڑے۔بھائی جمال الدین مرحوم نے اس وقت کہا۔مولوی صاحب آپ کو حضرت مرزا صاحب نے اپنی عربی کتابوں میں جواب کے لئے مخاطب کیا ہے۔ان کا جواب کیوں نہیں دیتے۔اس پر وہ کہنے لگے۔ہاں اس کا جواب ایک طالب علم لکھ رہا ہے۔بھائی جمال الدین نے کہا کہ مخاطب تو آپ ہیں۔طالب علم کو کیا حق ہے کہ وہ اس کا جواب دے۔مگر مولوی صاحب نے اس کا کوئی جواب نہ دیا اور گھر کو چلے گئے۔راستہ میں ایک گدھا ایندھن کا لدا ہوا کھڑا تھا۔اس کے پاس کھڑے ہوکر اس کے مالک سے سودا کرتے رہے۔ہم پھر سب قادیان آگئے۔کیونکہ وہ آرہ والا مولوی بٹالہ میں نہیں آیا تھا۔952 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ جس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آتھم سے مباحثہ مقرر ہوا تو حضور امرتسر جانے کی تیاری کرنے لگے اور ہم تینوں بھائی بھی ساتھ تھے اور دیگر دوست بھی ہمراہ تھے۔جب امرتسر پہنچے تو مباحثہ کی جگہ کے لئے ایک کوٹھی جو عیسائیوں کی تھی مقرر ہوئی۔یہ مباحثہ تحریری تھا۔ہر ایک فریق کے ساتھ دو دو کا تب تھے۔اس طرف حضرت صاحب اپنا مضمون لکھواتے اور دوسری طرف آتھم اپنا مضمون لکھوا ر ہا تھا۔بعد میں دونوں فریق کے مضمون سنائے جاتے۔وہ کتاب جس میں یہ مباحثہ درج ہے ”جنگ مقدس“ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔جب حضرت صاحب مباحثہ سے فارغ ہو کر شہر میں آئے اور ہال بازار میں آپ جارہے تھے اور تمام جماعت پیچھے پیچھے جارہی تھی تو اس وقت حضرت صاحب نے سفید کپڑے کا چوغہ پہنا ہوا تھا۔وہ چوغہ نیچے سے کچھ پھٹا ہوا تھا۔میاں چٹولا ہوری بھی پیچھے پیچھے جا رہا تھا۔وہ اس پھٹی ہوئی جگہ کو ہر ایک کو دکھاتا تھا کہ آپ کو کوئی خبر نہیں کہ میرا چوغہ پھٹا ہوا ہے۔اس کی اس سے غرض یہ تھی کہ اگر کوئی دُنیا دار ہوتا تو ایسے کپڑے پہنے اپنی ہتک سمجھتا۔ہم تین دن ٹھہر کر چلے آئے تھے۔باقی مباحثہ ہمارے بعد ہوا تھا۔953 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ابتدا میں قادیان کے سب مقیم احمدی لنگر سے کھانا کھاتے تھے۔حضرت خلیفہ اول بھی گول کمرہ میں مہمانوں کے دستر خوان پر کھانا کھانے کے لئے آیا کرتے تھے۔اس دستر خوان پر حضرت صاحب شریک نہیں ہوتے تھے۔ان