سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 812
سیرت المہدی 812 حصہ سوم صبا شرمنده می گردد بُر وئے گل نگه کردن پھر بہت غور اور فکر کیا کہ اس کے ساتھ کا دوسرا مصرعہ بنے۔مگر نہ بنا۔اور وہ مدتوں اسی فکر میں غلطاں پیچاں رہا۔اتفاقیہ ایک دن وہ تھوڑا سا کپڑا خرید نے بزاز کے ہاں گیا۔جہاں بزاز نے بیسیوں تھان اس کے سامنے کھول ڈالے۔مگر اُسے کوئی کپڑا پسند نہ آیا۔جب دُکان سے چلنے لگا تو بزاز کو وہ تمام تھان نئے سرے سے تہہ کرنے پڑے اور اسے بڑی دقت ہوئی۔اس حالت کو دیکھ کر غنیمت بہت شرمندہ ہوا اور پھر بجلی کی طرح اس کے دل میں دوسرا مصرعہ آگیا اور وہ شعر پورا ہو گیا۔چنانچہ شعر یہ ہے صبا شرمنده می گرددبُر وئے گل نگه کردن که رخت غنچه را وا کرد و نتوانست ته کردن خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ نسیم صبا شرم کی وجہ سے پھول کی طرف نظر نہیں اُٹھا سکتی کہ اس نے کلی کا منہ کھول تو دیا مگر پھر اس کے بند کرنے کی طاقت نہ پائی۔951 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں امام الدین صاحب سیکھوانی نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت اقدس نے ہم تینوں بھائیوں سے فرمایا کہ بٹالہ میں جاؤ۔سُنا ہے کہ ایک مولوی آرہ سے آ رہا ہے اس نے بڑی مسجد مولوی صوفی شاہ والی میں جمعہ پڑھانا ہے۔دیکھ سن آؤ کہ ہمارے متعلق کیا بیان کرتا ہے۔ہم تینوں برادر بٹالہ میں گئے۔پہلے ہم مولوی محمد حسین کی مسجد میں گئے۔مولوی صاحب وہاں موجود تھے اور ان کے علاوہ دو تین اور آدمی بھی وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔ہم بھی وہاں جا کر بیٹھ گئے۔اس اثناء میں ایک شخص آیا اور اس نے آکر مولوی صاحب سے کہا کہ مجھے کچھ روپیہ زکوۃ سے دلوادیں۔وہاں مولوی صاحب کے برادروں میں سے محمد عمر نامی بیٹھا ہوا تھا۔مولوی صاحب نے اس کو کہا کہ اس شخص کو شیخ عبد الکریم کے پاس لے جاؤ اور زکوۃ سے کچھ دلوا دو۔شیخ محمد عمر نے جانے سے انکار کر دیا۔بھائی جمال الدین مرحوم نے کہا۔مولوی صاحب اگر حضرت مرزا صاحب ایک آدمی کو کہیں تو سو آدمی اُٹھ کھڑا ہوتا ہے۔اس پر مولوی صاحب نے جوش میں آکر کہا کہ یہ کوئی حق کی دلیل ہے۔جواب میں کہا گیا کہ پھر حق کس کو کہتے ہیں اس پر