سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 811 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 811

سیرت المہدی 811 حصہ سوم 948 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جہاں تک میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طرز عمل سے نتیجہ نکالا ہے وہ یہی ہے کہ حضور لڑکیوں کے پیدا ہونے کی نسبت لڑکوں کی پیدائش کو زیادہ پسند کرتے تھے اور زیادہ خوش ہوتے تھے اور اس معاملہ میں ان لوگوں کی رائے نہ رکھتے تھے جو کہا کرتے ہیں کہ لڑکی لڑکا چونکہ خدا کی دین ہیں۔اس لئے ہماری نظر میں دونوں برابر ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس میں کیا قحبہ ہے کہ اگر اور حالات برا بر ہوں تو کئی لحاظ سے لڑکا لڑکی سے افضل ہوتا ہے جیسا کہ حدیث میں بھی اس طرف اشارہ پایا جاتا ہے اور فرق تو ظاہر ہی ہے کہ عام حالات میں لڑکا دین کی زیادہ خدمت کر سکتا ہے۔949 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک قصہ بیان فرمایا کہ ایک بادشاہ تھا اس کی لڑکی پر کوئی فقیر عاشق ہو گیا اور کوئی صورت وصل کی نہ تھی۔کہاں وہ فقیر اور کہاں وہ بادشاہ زادی ! آخر وہ فقیر اس غم میں مر گیا۔جب غسل دیگر اور کفن پہنا کر اسے دفن کرنے کے لئے تیار کیا گیا تو لوگوں نے دیکھا کہ اس کے ہونٹ ابھی ہل رہے ہیں۔کان لگا کر غور سے سُنا۔تو یہ شعر سُنائی دیئے۔جانان مرا بمن بیارید ویں مردہ تنم بدو سپارید در زنده مدارید گر بوسہ دہد بریں لبانم بادشاہ نے سُن کر کہا اچھا اس کی آزمائش کر لو۔چنانچہ شہزادی کو کہا کہ اس مُردہ کو بوسہ دو۔اس کے بوسہ دینے کی دیر تھی کہ وہ شخص اُٹھ بیٹھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ہے تو یہ ایک قصہ مگر اس سے حضرت صاحب کا یہ مطلب تھا کہ گو ہر مقصود کا مل جانا ایک ایسی چیز ہے کہ گویا مردہ کو بھی زندہ کر دیتی ہے۔950 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر یر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود رام نے ایک دن فرمایا کہ ایک شاعر غنیمت نامی تھا اس نے ایک دن یہ مصرعہ کہا:۔