سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 806
سیرت المہدی 806 حصہ سوم کر کے اس کی خامی اور کمی کو خود پورا کر کے اس کو مضبوط کرتے ہیں اور پھر جواب کی طرف توجہ کرتے ہیں۔اور یہی طریق حق کو غالب کرنے کا ہے۔941 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں معراج الدین صاحب عمر نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مقدمہ فوجداری کی جوابدہی کے لئے جہلم کو جارہے تھے۔یہ مقدمہ کرم دین نے حضور اور حکیم فضل الدین صاحب اور شیخ یعقوب علی صاحب کے خلاف توہین کے متعلق کیا ہوا تھا۔اس سفر کی مکمل کیفیت تو بہت طول چاہتی ہے۔میں صرف ایک چھوٹی سی لطیف بات عرض کرتا ہوں جس کو بہت کم دوستوں نے دیکھا ہوگا۔جب حضور لاہور ریلوے سٹیشن پر گاڑی میں پہنچے تو آپ کی زیارت کے لئے اس کثرت سے لوگ جمع تھے جس کا اندازہ محال ہے کیونکہ نہ صرف پلیٹ فارم بلکہ باہر کا میدان بھی بھرا پڑا تھا اور لوگ نہایت منتوں سے دوسروں کی خدمت میں عرض کرتے تھے کہ ہمیں ذرا چہرہ کی زیارت اور درشن تو کر لینے دو۔اس اثناء میں ایک شخص جن کا نام منشی احمد الدین صاحب ہے ( جو گورنمنٹ کے پنشنرز ہیں اور اب تک بفضلہ زندہ موجود ہیں اور انکی عمر اس وقت دو تین سال کم ایک سو برس کی ہے لیکن قومی اب تک اچھے ہیں اور احمدی ہیں) آگے آئے جس کھڑکی میں حضور بیٹھے ہوئے تھے وہاں گورہ پولیس کا پہرہ تھا اور ایک سپرنٹنڈنٹ کی حیثیت کا افسر اس کھڑکی کے عین سامنے کھڑا نگرانی کر رہا تھا۔کہ اتنے میں جرات سے بڑھ کر منشی احمد الدین صاحب نے حضور سے مصافحہ کے لئے ہاتھ بڑھایا۔یہ دیکھ کر فوراً اس پولیس افسر نے اپنی تلوار کو الٹے رُخ پر اس کی کلائی پر رکھ کر کہا کہ پیچھے ہٹ جاؤ۔اس نے کہا کہ میں ان کا مرید ہوں اور مصافحہ کرنا چاہتا ہوں۔اس افسر نے جواب دیا کہ اس وقت ہم ان کی حفاظت کے ذمہ وار ہیں۔ہم اس لئے ساتھ ہیں کہ بٹالہ سے جہلم اور جہلم سے بٹالہ تک بحفاظت تمام ان کو واپس پہنچادیں۔ہمیں کیا معلوم ہے کہ تم دوست ہو یا دشمن ممکن ہے کہ تم اس بھیس میں کوئی حملہ کر دو۔اور نقصان پہنچاؤ۔پس یہاں سے فوراً چلے جاؤ۔یہ واقعہ حضرت صاحب کی نظر سے ذرا ہٹ کر ہوا تھا کیونکہ آپ اور طرف مصروف تھے۔اس کے بعد راستہ میں