سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 805
سیرت المہدی 805 حصہ سوم رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَاِنْ لَّمْ تَغْفِرُلَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ - (الاعراف: ۲۴) رَبَّنَا هَبْ لَنَامِنُ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا ـ (الفرقان: ۷۵) رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا۔۔۔۔۔(البقرة:۲۸۷) رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا ـ (الفرقان: ۶۶) رَبَّنَا افْتَحُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ - (الاعراف: ۹۰) رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلْقَوْمِ الظَّالِمِينَ - (يونس : ٨٦) رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ال عمران: 9) رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِى لِلإِيْمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمُ فَآمَنَّا۔۔۔۔۔ال عمران: ۱۹۴) اللَّهُمَّ اَيْدِ الْإِسْلَامَ وَالْمُسْلِمِيْنَ بِالْإِمَامِ الْحَكَمِ الْعَادِلِ - اللَّهُمَّ انْصُرْ مَنْ نَصَرَ دِيْنَ مُحَمَّدٍ وَاجْعَلْنَا مِنْهُمْ وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَ دِينَ مُحَمَّدٍ وَلَا تَجْعَلْنَا مِنْهُمْ - خاکسار عرض کرتا ہے کہ آخری سے پہلی دعا میں دراصل مسیح موعود کی بعثت کی دعا ہے مگر بعثت کے بعد اس کے یہ معنے سمجھے جائیں گے، کہ اب مسلمانوں کو آپ پر ایمان لانے کی توفیق عطا کر۔940 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میاں معراج الدین صاحب عمر نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ جب کبھی کوئی ایسا اعتراض یا مسئلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش ہوتا یا کسی کی تحریر کے ذریعہ حضور کو پہنچتا کہ جس کا جواب دینا ضروری ہوتا۔تو عام طور پر حضرت صاحب اس اعتراض یا مسئلہ کے متعلق مجلس میں اپنے دوستوں کے سامنے پیش کر کے فرماتے کہ اس معترض کے اعتراض میں فلاں فلاں پہلوں فروگذاشت کئے گئے ہیں۔یا اس کی طبیعت کو وہاں تک رسائی نہیں ہوئی ، یا یہ اعتراض کسی سے سُن کر اپنی عادت یا فطرت کے خبث کا ثبوت دیا ہے۔پھر حضور اس اعتراض کو مکمل کرتے اور فرمایا کرتے کہ اگر اعتراض ناقص ہے۔تو اس کا جواب بھی ناقص رہتا ہے۔اس لئے ہماری یہی عادت ہے کہ جب کبھی کسی مخالف کی طرف سے کوئی اعتراض اسلام کے کسی مسئلہ پر پیش آتا ہے۔تو ہم پہلے اس اعتراض پر غور