سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 792 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 792

سیرت المہدی 792 حصہ سوم کہ حضور میں یہیں اچھا ہوں۔تیسری بار حضور نے خاص طور پر فرمایا کہ آپ میری چار پارٹی پر آکر بیٹھ جائیں۔کیونکہ آپ سید ہیں۔اور آپ کا احترام ہم کو منظور ہے۔حضور کے اس ارشاد سے مجھے بہت فرحت ہوئی۔اور میں اپنے سید ہونے کے متعلق حق الیقین تک پہنچنے کے لئے جو آسمانی شہادت چاہتا تھا وہ مجھے مل خاکسار عرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو تو اپنے سٹیڈ ہونے کا ثبوت ملنے پر فرحت ہوئی اور مجھے اس بات سے فرحت ہوئی ہے کہ چودہ سو سال گذر جانے پر بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت کی اولاد کا کس قدر پاس تھا۔اور یہ پاس عام تو ہمانہ رنگ میں نہیں تھا۔بلکہ بصیرت اور محبت پر مبنی تھا۔917 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میری لڑکی زینب بیگم نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب حضور علیہ السلام سیالکوٹ تشریف لے گئے تھے تو میں رعیہ سے ان کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ان ایام میں مجھے مراق کا سخت دورہ تھا۔میں شرم کے مارے آپ سے عرض نہ کر سکتی تھی۔مگر میرا دل چاہتا تھا کہ میری بیماری سے کسی طرح حضور کو علم ہو جائے تا کہ میرے لئے حضور دعا فرمائیں۔میں حضور کی خدمت کر رہی تھی۔کہ حضور نے اپنے انکشاف اور صفائی قلب سے خود معلوم کر کے فرمایا۔زینب تم کو مراق کی بیماری ہے۔ہم دُعا کرینگے۔تم کچھ ورزش کیا کرو اور پیدل چلا کرو۔مگر میں ایک قدم بھی پیدل نہ چل سکتی تھی۔اگر دو چار قدم چلتی بھی تو دوره مراق و خفقان بہت تیز ہو جا تا تھا۔میں نے اپنے مکان پر جانے کے لئے جو حضور کے مکان سے قریباً ایک میل دور تھا۔ٹانگے کی تلاش کی مگر نہ ملا۔اس لئے مجبور امجھ کو پیدل جانا پڑا۔مجھ کو یہ پیدل چلنا سخت مصیبت اور ہلاکت معلوم ہوتی تھی مگر خدا کی قدرت ، جوں جوں میں پیدل چلتی تھی آرام معلوم ہوتا تھا۔حتی کہ دوسرے روز پھر میں پیدل حضور کی زیارت کو آئی تو دورہ مراق جاتا رہا اور بالکل آرام آگیا۔918 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ عرصہ کی بات ہے کہ میں لاہور میں خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں صبح کے وقت بیٹھا قرآن مجید کی تلاوت کر رہا تھا اور ایک چارپائی پر فخر الدین ملتانی بھی بیٹھا ہوا تلاوت کر رہا تھا۔اتنے میں مجھے فخر الدین