سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 791 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 791

سیرت المہدی 791 حصہ سوم تکلیف کا باعث ہونے لگی تھیں۔جس پر بعض بلوں کو پنجروں میں بند کروا کے دوسری جگہ بھجوانا پڑا تھا۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس روایت سے پتہ لگتا ہے کہ باوجود خدائی وعدہ کے کہ آپ کی چار دیواری میں کوئی شخص طاعون سے نہیں مرے گا۔آپ کو خدا کے پیدا کئے ہوئے اسباب کا کتنا خیال رہتا تھا۔914 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک شخص نے ایک دفعہ حضور سے عرض کیا کہ مجھے کھانا کھاتے ہی بیت الخلاء جانے کی حاجت ہونے لگتی ہے۔حضور فرمانے لگے۔ایسے معدہ کو حکیموں نے بخیل معدہ کہا ہے۔یعنی جب تک اس کے اندر کچھ نہ پڑے تب تک وہ پہلی غذا نکالنے کو تیار نہیں ہوتا۔915 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضور علیہ السلام ایک دفعہ فرماتے تھے کہ ہم نے ایک اہم امر کے لئے دیوان حافظ سے بھی فال لی تھی۔لیکن اب یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ کس امر کے لئے فال لی تھی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ فال بھی ایک قسم کی قرعہ اندازی ہے اور اگر اس کے ساتھ دعا شامل ہوتو وہ ایک رنگ کا استخارہ بھی ہو جاتی ہے۔مگر میں نے سُنا ہے کہ حضرت صاحب قرآن شریف سے فال لینے کو نا پسند فرماتے تھے۔916 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن حضرت مسیح موعود علیہ السلام باغ میں ایک چارپائی پر تشریف رکھتے تھے۔اور دوسری دو چار پائیوں پر مفتی محمد صادق صاحب اور شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم وغیرہ بیٹھے ہوئے تھے۔اور ایک بوری نیچے پڑی ہوئی تھی۔اس پر میں دو چار آدمیوں سمیت بیٹھا ہوا تھا۔میرے پاس مولوی عبدالستار خان صاحب بزرگ بھی تھے۔حضرت صاحب کھڑے تقریر فرما رہے تھے کہ اچانک حضور کی نظر مجھ پر پڑی تو فرمایا۔کہ ڈاکٹر صاحب آپ میرے پاس چار پائی پر آکر بیٹھ جائیں۔مجھے شرم محسوس ہوئی۔کہ میں حضور کے ساتھ برابر ہو کر بیٹھوں۔حضور نے دوبارہ فرمایا کہ شاہ صاحب آپ میرے پاس چار پائی پر آجائیں۔میں نے عرض کی