سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 787 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 787

سیرت المہدی 787 حصہ سوم شاہ نشین کے نشان (X) پر بیٹھا کرتے تھے۔مولوی عبد الکریم صاحب عام طور پر نشان (۱) پر اور مولوی نورالدین صاحب نشان (ب) کی جگہ پر ہوتے تھے۔اور حضرت مسیح موعود کی بائیں طرف دوسرے خاص احباب بیٹھتے تھے۔باقی سب نیچے یا جنوبی شہ نشین پر بیٹھتے تھے۔اس نقشہ کے چاروں کونوں پر چار چھوٹے مناروں کے نشان ہیں جن میں ایک تو توسیع کے وقت اُڑ گیا تھا اور دوساتھ کی دیوار میں جذب ہو گئے ہیں اور ایک جو جنوب مشرقی کونے میں ہے ابھی تک اسی طرح قائم ہے۔908 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حاجی محمد اسمعیل صاحب ریٹائر ڈاسٹیشن ماسٹر حال محلہ دارالبرکات قادیان نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۱۵ ستمبر ۱۹۳۸ء کو شام کے وقت میں حضرت میاں محمد یوسف صاحب مردان کے ہمراہ کھانا کھا رہا تھا۔چونکہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پرانے صحابہ میں سے ہیں۔میں نے دریافت کیا کہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہمراہ کھانا کھانے کا کتنی دفعہ شرف حاصل ہوا۔فرمایا۔دو دفعہ مختلف موقعوں پر موقعہ ملا۔پہلی دفعہ تو گول کمرہ میں اور دوسری بار بٹالہ کے باغ میں جو کچہریوں کے متصل ہے۔جہاں حضرت صاحب کسی گواہی کے لئے تشریف لے گئے تھے۔اس موقعہ پر چالیس پچاس دوست حضور کے ہمرکاب تھے۔کھانا دارالامان سے پک کر آ گیا تھا۔فرش بچھا کر دو قطاروں میں دوست بیٹھ گئے۔میں دوسری قطار میں بالکل حضرت صاحب کے سامنے بیٹھا تھا۔اتنے میں ایک ہندو وکیل صاحب آئے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مخاطب کر کے کہا کہ آپ کے الہامات میں جو دافع البلاء میں شائع ہوئے ہیں ایک الہام میں شرک کا رنگ ہے اور وہ الہام أَنْتَ مِنِّى بِمَنزِلَةِ ولدى“ ہے۔حضرت صاحب نے اس کے جواب میں ابھی کوئی کلمہ اپنی زبان مبارک سے نہ فرمایا تھا کہ میں نے فوراً کہا کہ وہاں ایک تشریحی نوٹ بھی تو ہے۔وکیل نے انکار کیا کہ وہاں کوئی نوٹ نہیں۔میں نے کہا کہ کتاب لاؤ میں دکھا دیتا ہوں۔اس نے جواب دیا کہ میرے پاس کتاب کہاں ہے۔حسنِ اتفاق سے اس وقت میرے پاس حضرت صاحب کی سب کتب موجود تھیں۔جن کی میں نے خوبصورت جلدیں بندھوائی ہوئی تھیں اور وہ کتب میں مشہور مباحثہ مد کے سلسلہ میں اپنے ہمراہ لے گیا تھا۔کیونکہ مباحثہ ہماری تحریک پر ہی ہوا تھا۔میں نے فورا ہاتھ صاف کرتے ہوئے کتاب دافع البلاء کی جلد نکالی۔قدرت خداوندی