سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 784
سیرت المہدی 784 حصہ سوم نہیں۔مونڈھا گہنی جو بھی آپ کے ساتھ لگ سکے لگاتا ہوں۔کیا دوزخ کی آگ ہم کو بھی چھوئے گی۔ڈاکٹر صاحب نے جواب دیا کہ بھائی صاحب بات تو ٹھیک ہے لیکن تابعداری شرط ہے۔اللہ ! اللہ۔یہ اس وقت کی حالت ہے۔اور اب ڈاکٹر صاحب کی یہ حالت ہے کہ حضرت صاحب کے جگر گوشہ اور خلیفہ وقت سے منحرف ہور ہے ہیں۔902 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ جولائی ۱۹۰۴ء کا واقعہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گورداسپور کی کچہری سے باہر تشریف لائے اور خاکسار سے کہا کہ انتظام کرو کہ نماز پڑھ لیں۔خاکسار نے ایک دری نہایت شوق سے اپنی چادر پر بغرض جانماز ڈال دی۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اقتداء میں نماز ظہر وعصر ادا کی۔اس وقت غالباً ہم ہیں احمدی مقتدی تھے۔نماز سے فارغ ہونے پر معلوم ہوا کہ وہ دری حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی تھی۔اور انہوں نے وہ لے لی۔903 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ قدیم مسجد مبارک میں حضور علیہ السلام نماز جماعت میں ہمیشہ پہلی صف کے دائیں طرف دیوار کے ساتھ کھڑے ہوا کرتے تھے۔یہ وہ جگہ ہے جہاں سے آجکل موجودہ مسجد مبارک کی دوسری صف شروع ہوتی ہے۔یعنی بیت الفکر کی کو ٹھری کے ساتھ ہی مغربی طرف۔امام اگلے حجرہ میں کھڑا ہوتا تھا۔پھر ایسا اتفاق ہوا کہ ایک شخص پر جنون کا غلبہ ہوا۔اور وہ حضرت صاحب کے پاس کھڑا ہونے لگا اور نماز میں آپ کو تکلیف دینے لگا۔اور اگر کبھی اس کو پچھلی صف میں جگہ ملتی تو ہر سجدہ میں وہ صفیں پھلانگ کر حضور کے پاس آتا اور تکلیف دیتا اور قبل اس کے کہ امام سجدہ سے سراٹھائے وہ اپنی جگہ پر واپس چلا جاتا۔اس تکلیف سے تنگ آکر حضور نے امام کے پاس حجرہ میں کھڑا ہونا شروع کر دیا مگر وہ بھلا مانس حتی المقدور وہاں بھی پہنچ جایا کرتا اور تایا کرتا تھا۔مگر پھر بھی وہاں نسبتاً امن تھا۔اس کے بعد آپ وہیں نماز پڑھتے رہے یہاں تک کہ مسجد کی توسیع ہوگئی۔یہاں بھی آپ دوسرے مقتدیوں سے آگے امام کے پاس ہی کھڑے ہوتے رہے۔مسجد اقصے میں جمعہ اور عیدین کے موقعہ پر آپ صف اول میں عین امام کے پیچھے کھڑے ہوا کرتے تھے۔وہ معذور شخص جو ویسے مخلص تھا، اپنے خیال