سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 777
سیرت المہدی 777 حصہ سوم ہوئے اور فرمانے لگے کہ جو بچے طلب گار ہیں ان کی خدمت کے لئے ہم ہمیشہ ہی تیار ہیں۔ہمارا یہی کام ہے کہ ہم ان کی خدمت کریں۔اس سے پہلے حضور نے کبھی عورتوں میں تقریر یا درس نہیں فرمایا تھا مگر ان کی التجا اور شوق کو پورا کرنے کے لئے عورتوں کو جمع کر کے روزانہ تقریر شروع فرما دی جو بطور درس تھی۔پھر چند روز بعد حکم فرمایا کہ مولوی عبد الکریم صاحب اور مولوی نورالدین صاحب اور دیگر بزرگ بھی عورتوں میں درس دیا کریں۔چنانچہ مولوی عبد الکریم صاحب درس کے لئے بیٹھے اور سب عور تیں جمع ہوئیں۔چونکہ ان کی طبیعت بڑی آزاد اور بے دھڑک تھی۔تقریر کے شروع میں فرمانے لگے۔کہ اے مستورات ! افسوس ہے کہ تم میں سے کوئی ایسی سعید روح والی عورت نہ تھی جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو تقریر یا درس کے لئے توجہ دلاتی اور تحریک کرتی۔تمہیں شرم کرنی چاہئے۔اب شاہ صاحب کی صالحہ بیوی ایسی آئی ہیں جس نے اس کار خیر کے لئے حضور کو توجہ دلائی اور تقریر کرنے پر آمادہ کیا۔تمہیں ان کا نمونہ اختیار کرنا چاہئے۔نیز حضرت خلیفہ اول بھی اپنی باری سے تقریر اور درس فرمانے لگے۔اس وقت سے مستورات میں مستقل طور پر تقریر اور درس کا سلسلہ جاری ہو گیا۔883 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے حرم یعنی اماں جی نے مجھ سے بیان کیا کہ جب ۱۹۰۸ء میں حضرت مسیح موعود آخری دفعہ لا ہور تشریف لے جانے لگے اور اسی سفر میں آپ کی وفات ہوئی تو میں دیکھتی تھی کہ آپ اس موقعہ پر قادیان سے باہر جاتے ہوئے بہت متامل تھے اور فرماتے بھی تھے کہ میرا اس سفر پر جاتے ہوئے دل رُکتا ہے۔مگر چونکہ حضرت ام المومنین اور بچوں کی خواہش تھی اس لئے آپ تیار ہو گئے۔پھر جب آپ روانہ ہونے لگے تو آپ نے اپنے کمرہ کو جو حجرہ کہلاتا تھا خود اپنے ہاتھ سے بند کیا اور جب آپ اس کے دروازہ کو قفل لگا رہے تھے۔تو میں نے سنا کہ آپ بغیر کسی کو مخاطب کرنے کے یہ الفاظ فرما رہے تھے کہ اب ہم اس کمرہ کو نہیں کھولیں گے۔جس میں گویا یہ اشارہ تھا کہ اسی سفر کی حالت میں آپ کی وفات ہو جائیگی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اور بھی کئی قرائن سے پتہ لگتا ہے کہ حضرت صاحب خدائی الہامات کی بنا پر یقین رکھتے تھے کہ آپ کی وفات کا وقت آپہنچا ہے۔اور یہ کہ اسی سفر لاہور میں آپ کو سفر آخرت پیش