سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 768
سیرت المہدی 768 حصہ سوم فرماتے تھے نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ والدہ صاحبہ مرزا رشید احمد سے ہمارے بھائی خان بہادرمرزا سلطان احمد صاحب مرحوم کی بیوہ مراد ہیں۔جو حضرت مسیح موعود کے چچا زاد بھائی مرزا امام دین کی لڑکی ہیں اور ان کی پھوپھی صاحبہ سے ہماری تائی صاحبہ مراد ہیں جو حضرت صاحب کی بھا وجہ تھیں اور مرزا امام الدین کی سگی ہمشیرہ تھیں اور دادا صاحب سے ہمارے اپنے دادا یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الس<mark>لا</mark>م کے والد مراد ہیں۔865 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔ڈاکٹرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الس<mark>لا</mark>م کوکئی دفعہ یہ شعر پڑھتے سُنا ہے۔اور فرمایا کرتے تھے کہ زبان کے لحاظ سے یہ بڑا فصیح و بلیغ شعر؟ یا تو ہم پھرتے تھے ان میں یا <mark>ہوا</mark> یہ انق<mark>لا</mark>ب پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہائے لکھنؤ خاکسار عرض کرتا ہے کہ شعر واقعی بہت لطیف ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ حضرت صاحب نے اسے صرف اس کی عام خوبی کی وجہ سے ہی پسند نہیں کیا ہوگا بلکہ غالبا آپ اپنے ذہن میں اس کے معانی کو خود اپنے پیش آمدہ حا<mark>لا</mark>ت پر بھی چسپاں فرماتے ہوں گے۔866 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ مجھے کئی بار حضرت احمد علیہ الس<mark>لا</mark>م کی مٹھیاں بھرنے اور پاؤں دبانے کا موقعہ م<mark>لا</mark> ہے آپ کے جسم کا گوشت بہت سخت اور خوب کمایا <mark>ہوا</mark> تھا۔ایک دفعہ کسی بدبخت نے بجائے پاؤں دبانے کے آپ کے پاؤں پر چونڈھیاں بھرنی شروع کر دیں۔مگر آپ خاموشی سے برداشت کرتے رہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مٹھیاں بھرنا اور چونڈھیاں لینا پنجابی الفاظ ہیں۔ان سے ہاتھ کی ہتھیلی سے جسم کو دبانا اور چٹکیاں لینا مراد ہے۔867 بسم اللہ الرح<mark>من</mark> الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت احمد علیہ الس<mark>لا</mark>م جب مقدمہ گورداسپور کے ایام میں عدالت کے انتظار میں لب سٹرک گورداسپور میں گھنٹوں تشریف فرما رہتے تو بسا اوقات لوگ خیال کرتے کہ آپ ان کی طرف دیکھ رہے ہیں۔مگر آپ اکثر