سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 760
سیرت المہدی 760 حصہ سوم ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا۔میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔اور فرمایا کہ صبح اور شام کا وقت خاص طور پر برکات کے نزول کا وقت ہوتا ہے۔اور اس وقت فرشتوں کا پہرہ بدلتا ہے۔ایسے وقت کی برکات سے اپنے آپ کو محروم نہیں کرنا چاہئے۔ہاں کبھی مجبوری ہو تو عشاء کی نماز سے ملا کر مغرب کی نماز جمع کی جاسکتی ہے۔مائی کا کونے بیان کیا کہ اس وقت سے ہمارے گھر میں کسی نے مغرب کی نماز قضا نہیں کی اور ہمارے گھروں میں یہ طریق عام طور پر رائج ہو گیا ہے کہ شام کا کھانا مغرب سے پہلے ہی کھا لیتے ہیں تا کہ مغرب کی نماز کو صحیح وقت پر ادا کرسکیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مائی کا کونے جو قضا کا لفظ استعمال کیا ہے یہ عرف عام میں غلط طور پر استعمال ہونے لگا ہے۔ورنہ اس کے اصلی معنے پورا کرنے اور ادا کرنے کے ہیں نہ کہ کھونے اور ضائع کرنے کے۔مجھے اس کا اس لئے خیال آیا کہ مجھے یاد ہے کہ حضرت صاحب نے بھی ایک جگہ اس لفظ کے غلط استعمال کے متعلق ذکر کیا ہے۔852 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مائی کا کونے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب حضرت صاحب نے جماعت میں بکروں کی قربانی کا حکم دیا تھا۔تو ہم نے بھی اس ارشاد کی تعمیل میں بکرے قربان (صدقہ ) کروائے تھے۔اس کے کچھ عرصہ بعد میں نے خواب دیکھا۔کہ ایک بڑا بھاری جلوس آرہا ہے اور اس جلوس کے آگے کوئی شخص رتھ میں سوار ہو کر چلا آرہا ہے۔جس کے ارد گرد پردے پڑے ہوئے ہیں اور لوگوں میں شور ہے کہ محمد ﷺ آگئے۔محمد ی آ گئے۔میں نے آگے بڑھکر رتھ کا پردہ اُٹھایا تو اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف رکھتے تھے۔آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا۔کیا تم نے صدقہ نہیں کیا؟ میں نے کہا۔حضور ہم نے تو صدقہ کروا دیا ہے۔آپ نے فرمایا اور کروا دو۔چنانچہ میں نے اور صدقہ کروا دیا۔اس زمانہ میں دو روپیہ میں بکر امل جاتا تھا۔اور ہم نے پانچ پیسے میں سیر گوشت خریدا ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ غالبا اس زمانہ کی بات ہے جب حضرت صاحب ۱۹۰۵ء والے زلزلہ کے بعد باغ میں جا کر ٹھہرے تھے۔853 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میرمحمد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ ایک شخص