سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 749 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 749

سیرت المہدی 749 حصہ سوم سُنا۔چونکہ اس وقت وہ مجو بہ چیز تھی۔لالہ ملا وامل اور لالہ شرمیت نے بمعہ دیگر چنداہل ہنود کے اسے دیکھنا اور سُنا چاہا اور چونکہ نواب صاحب سے براہ راست ان کا تعلق نہ تھا اور حضرت صاحب پر ان کو دیرینہ تعلق کا دعوی تھا۔اس لئے انہوں نے حضرت صاحب سے ہی درخواست کی۔حضور نے ایک اردو نظم تیار کر کے مولوی عبدالکریم صاحب کو دی کہ ریکارڈ میں بھر دیں۔چنانچہ ان کو وہ نظم اور دیگر ریکار ڈ سُنائے گئے۔یہ تبلیغی نظم در مشین میں درج ہے۔اس زمانہ کے ریکارڈ چونکہ موم کے ہوتے تھے۔اس لئے مرور زمانہ سے ان کے نقش خراب ہو گئے اور اب صاف سنے نہیں جاسکتے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ وہی نظم ہے جو اس طرح شروع ہوتی ہے کہ :۔آواز آ رہی ہے یہ فونو گراف سے ڈھونڈ و خدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں یہ آلہ گراموفون کہلاتا ہے۔اور اس کے ریکارڈ توے کی طرح چیٹے ہوتے ہیں اور صرف کارخانوں میں تیار ہو سکتے ہیں۔833 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت میں لاہور میں تھا اور خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان میں رہا کرتا تھا۔جب آپ فوت ہوئے۔تو میں اور ایک اور احمدی نوجوان حضرت صاحب کے غسل دینے کے لئے بیری کے پتے لینے گئے۔مجھے یہ یاد نہیں کہ کسی بزرگ نے پتے لانے کے لئے کہا تھا۔میں روتا جا رہا تھا اور اسلامیہ کالج کے پشت پر کچھ بیریاں تھیں وہاں سے پیتے تو ڑ کر لایا تھا۔گرم پانی میں ان پتوں کو کھولا کر اس پانی سے حضور کو نسل دیا گیا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جہاں تک مجھے یاد ہے کہ حضرت صاحب کو فنسل ڈاکٹر نور محمد صاحب لاہوری اور بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے دیا تھا۔834 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ میں نے ایک دوست سے یہ واقعہ سُنا ہے کہ جناب خان بہا در مرز سلطان احمد صاحب۔جب ای۔اے۔سی کا