سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 729 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 729

سیرت المہدی 729 حصہ سوم (یعنی سدھی) تھے۔اس لئے ہم رات کو بٹالہ میں مولوی محمد حسین صاحب کی مسجد میں ٹھہرے۔مولوی محمد حسین صاحب ہمیں شام کو مسجد میں ملے اور کہا کہ صبح مل کر جانا۔کیونکہ میں نے ایک دو پیغام مرز اصاحب کو بھیجنے ہیں۔مگر ہم کو نہ تو روٹی کے لئے پوچھا اور نہ ہی رات کوسونے کے لئے کہا۔چنانچہ ہم شیخ نبی بخش صاحب ٹھیکیدار کے ہاں رات کو ٹھہرے اور صبح بعد نماز فجر جب ہم قادیان کو روانہ ہونے لگے۔تو اس وقت مولوی محمد حسین صاحب قادیان والے راستہ کے موڑ تک جو بٹالہ کے بوچڑ خانہ کے نزدیک ہے ہمیں آکر ملے اور ہمیں یہ دو پیغام دیئے۔ا۔مرزا صاحب کو کہ دینا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ میرے گھر لڑکا پیدا ہوگا۔۲۔ایم عبدالرشید کو مرزا صاحب کہہ دیں کہ ان کے والد صاحب کو جو روپیہ میرے پاس جمع ہے وہ حساب کر کے اپنے حصہ کا روپیہ لے لیویں۔باقی جب اس کے بھائی بالغ ہوں گے۔تو وہ اپنے اپنے حصہ کا روپیہ لے لیویں گے۔ہم بروز جمعہ حضرت صاحب سے بعد نماز جمعہ مسجد مبارک میں ملے اور بعد مصافحہ ہر دو پیغام حضور کی خدمت میں عرض کر دیئے۔پہلے پیغام کا جواب حضرت صاحب نے یہ دیا۔کہ امید نہیں کہ اب مولوی محمد حسین صاحب کے گھر لڑکا پیدا ہو۔اگر ہو بھی جائے تو میری اور ان کی مثال ایسی ہوگی جیسے کہ ایک بادشاہ ہو جس کے پاس بڑا خزانہ ہو اور ایک شخص کے پاس صرف ایک پیسہ ہو۔چونکہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالہ کی اہلیہ ان دنوں اپنی لڑکی کے پاس مولوی محمد صاحب کے گھر مزنگ گئی ہوئی تھی۔تو تخمینا عرصہ ایک ماہ کے بعد مولوی محمد صاحب نے مزنگ سے مجھے خط لکھا۔کہ مولوی محمد حسین صاحب کے گھر لڑکی پیدا ہوئی ہے۔یعنی جو پیشگوئی لڑکے کی تھی وہ غلط نکلی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی محمد صاحب اب فوت ہو چکے ہیں۔ان کے لڑکے شیخ عبدالعزیز صاحب مشہور شخص ہیں جو حکومت پنجاب کے ماتحت پریس برانچ کے انچارج رہے ہیں۔مگر احمدی نہیں ہوئے اور شیخ عبدالرشید صاحب والے معاملہ کے متعلق میں نے خود شیخ صاحب موصوف سے پوچھا تھا۔وہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد صاحب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے معتقد تھے اور آپس میں بہت