سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 67
سیرت المہدی 67 حصہ اوّل اس طرح تین کو چار کرنے والا قرار دیا کہ مرزا سلطان احمد اور فضل احمد کو بھی شمار کر لیا۔اور بشیر اول متوفّی کو بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں (یعنی خاکسار راقم الحروف کو ) اس طرح پر کہ صرف زندہ لڑکے شمار کر لئے اور بشیر اول متوفی کو چھوڑ دیا۔شریف احمد کو اس طرح پر قرار دیا کہ اپنی پہلی بیوی کے لڑکے مرزا سلطان احمد اور فضل احمد چھوڑ دیئے اور میرے سارے لڑکے زندہ متوفی شمار کر لئے اور مبارک کو اس طرح پر کہ میرے صرف زندہ لڑکے شمار کر لئے اور بشیر اول متوفی کو چھوڑ دیا۔93 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اپنی وفات کے قریب بڑی کثرت سے اپنی وفات کے متعلق الہامات اور خوا ہیں شروع ہوگئی تھیں۔جب آپ لا ہور تشریف لے گئے تو وہاں زیادہ کثرت سے ایسے الہام ہونے شروع ہوئے۔اس وجہ سے اور کچھ ویسے بھی۔میں نے گھبرا کر ایک دن حضرت صاحب سے کہا کہ چلو اب قادیان واپس چلیں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ اب تو جب ہمیں خدا لے جائے گا تب ہی جائیں گے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ یہ بھی حضرت صاحب کی صداقت کی ایک دلیل ہے کہ باوجود اس کے کہ آپ کو اس کثرت سے اپنی وفات کے متعلق الہامات ہوتے تھے اور وفات کے قریب تو کثرت کا یہ حال تھا کہ گویا موت بالکل سر پر کھڑی ہے آپ اپنے کام میں اسی تندہی سے لگے رہے بلکہ زیادہ ذوق شوق اور محنت سے کام شروع کر دیا۔چنانچہ جس وقت آپ کی وفات ہوئی ان دنوں میں بھی آپ رسالہ پیغام صلح کی تصنیف میں مصروف تھے اور تقاریر کا سلسلہ بھی برابر جاری تھا کوئی اور ہوتا تو قرب موت کی خبر سے اس کے ہاتھ پاؤں ڈھیلے پڑ جاتے اور کوئی مفتری ہوتا تو یہ وقت اس کے راز کے طشت از بام ہونے کا وقت تھا۔94 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ ۲۵ رمئی ۱۹۰۸ء کو عصر کی نماز کے بعد یعنی اپنی وفات سے صرف چند گھنٹے پیشتر حضور نے لاہور میں خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان پر جہاں نماز ہوا کرتی تھی ایک بڑی پر جوش تقریر فرمائی جس کی وجہ یہ تھی کہ مولوی ابراہیم سیالکوٹی کی طرف سے ایک شخص مباحثہ کا چیلنج لے کر آپ کے پاس آیا تھا۔آپ نے مباحثہ کی شرائط کے لئے مولوی محمد احسن صاحب کو مقر رفرمایا اور پھر اس