سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 690 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 690

سیرت المہدی 690 حصہ سوم غلام قادر صاحب جو کہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر میں سپرنٹنڈنٹ تھے۔وہ مقدمہ پر ایک گدھا جس پر اخباروں کا بوجھ لدا ہوا تھا۔جن کے نام اودھ سے اخبار ”رہبر ہند آتا تھا ثبوت کے لئے لائے۔چنانچہ ایک طرف مدعی سپر نٹنڈنٹ محکمہ ڈاک تھے اور دوسری طرف مرزا صاحب اکیلے تھے۔اور جرم یہ تھا کہ مرزا صاحب نے دو آرٹیکل ایک لفافہ میں بند کئے۔اور ان کے بھائی نے چند ایک وکیل مرزا صاحب کی امداد کے واسطے کھڑے کر دیئے۔مگر مرزا صاحب نے ان کو کہہ دیا کہ میں اپنے جرم کا خود ذمہ دار ہوں اور عدالت کو جواب دوں گا۔چنانچہ بحث ہوئی۔مرزا صاحب نے سپرنٹنڈنٹ سے سوال کیا کہ مجھ کو میرا جرم بتلایا جائے۔سپرنٹنڈنٹ صاحب نے مفصل بیان کیا کہ ایک تو آپ نے مطبع میں مضمون دیا۔دوسرے اس میں ایک رقعہ لکھا ہوا تھا۔مرزا صاحب نے اس کے جواب میں ایک گدھے کا بوجھ ثبوت میں پیش کیا۔کہ رقعہ جز ومضمون تھا۔چنانچہ میرے سابقہ اخبارات کو ملاحظہ فرمایا جائے۔کہ میں یہی خط لکھتا رہا ہوں۔چنانچہ پہلے ایڈیٹر صاحب میرے مضمون ذیل کو اخبار میں چھپوا دیں اور اس کے آگے یہ مضمون ہے۔یہ ایک جزو ہے یا کہ دو اور بہت سے اخبارات مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ کو پیش کئے۔سامعین کثرت سے موجود تھے۔مرزا صاحب باعزت طور پر بری ہو گئے۔یہ واقعہ میری موجودگی کا ہے۔نرائن سنگھ نے یہ اس لئے کیا کہ جب امتحان وکالت میں ممتحن نے تمام لڑکوں کو فیل کر دیا۔تو تمام لڑکوں نے ممتحن سے کہا کہ یہ سب شرارت ناقل اور پوچھنے والے نرائن سنگھ کی ہے۔تمام لڑکوں کو کیوں فیل کیا گیا ہے۔چنانچہ نرائن سنگھ کا نام شرارت کنندہ درج کیا گیا۔اس لئے نرائن سنگھ کو مرزا صاحب سے پر خاش تھی۔جس کی وجہ سے اس نے یہ مقدمہ مرزا صاحب کے خلاف دائر کر وایا تھا۔نرائن سنگھ اس وقت امرتسر میں تھا۔مرز اصاحب اور نگ زیب شہنشاہ ہند کے خاندان سے تھے۔ان کے والد صاحب کشمیر کے صوبہ دار بھی رہ چکے تھے۔مرزا صاحب قابل حکیم تھے اور پنجاب میں گیارھویں درجہ پر کرسی ملتی تھی اور ان کی جا گیر آٹھ میل چوڑی تھی۔مستورات کا پردہ بالکل ٹھیک رکھا جاتا تھا۔حکمت دھرم ارتھ کرتے تھے اور کوئی معاوضہ نہ لیتے تھے۔مرزا غلام مرتضے صاحب والد مرزا غلام احمد صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ جب میں