سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 677
سیرت المہدی 677 حصہ سوم کہ بدر کی جنگ میں جب آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا حد درجہ کو پہنچا دی تو حضرت ابو بکر نے کہا کہ یا رسول اللہ ! جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح کا وعدہ ہے تو پھر آپ اس قدر مضطرب کیوں ہوتے ہیں۔حضرت صاحب فرماتے تھے کہ بات یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت ابو بکر کی معرفت سے بہت زیادہ تھی۔اور آنحضرت ﷺہ خدا کی صفت غناء ذاتی کے بہت زیادہ عارف تھے مگر ابوبکر کو صرف خدا کے ظاہری وعدہ کا خیال تھا۔اس لئے جہاں ابو بکر کو خدائی وعدہ کی وجہ سے تسلی تھی آنحضرت علی باوجود تسلی یافتہ ہونے کے خدا کے غناء ذاتی کے خیال سے بھی خائف تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایک فارسی شعر ہے جس کا ایک مصرع یہ ہے اور کیا خوب مصرع ہے کہ:۔6600 ہر کہ عارف تر است ترساں تر“ 751 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ماسٹر عبدالرحمن صاحب بی۔اے نے بواسطہ مولوی عبدالرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ۱۹۰۶ ء یا ء کا واقعہ ہے کہ آریوں کا ایک اخبار شجھ چنتک قادیان سے شائع ۰۷ ہوتا تھا اور اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف کثرت کے ساتھ دل آزار مضامین شائع ہوتے تھے۔ہمیں اس اخبار کو پڑھ کر از حد غصہ آتا تھا۔مگر حضرت صاحب نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی اس کا جواب نہ دے۔ہم خود جواب لکھیں گے۔چنانچہ حضرت صاحب نے رسالہ قادیان کے آریہ اور ہم تالیف فرمایا۔اس رسالہ میں اپنے نشانات پیش کر کے لالہ ملاوامل اور لالہ شرمیت کو چیلنج دیا کہ وہ میرے ان نشانات کے گواہ ہیں۔اگر یہ نشانات برحق نہیں تو حلفیہ انکار کر کے اشتہار شائع کریں۔پھر دیکھو کہ عذاب الہی کس طرح ان پر مسلط ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ یہ تو ممکن ہے کہ یہ لوگ حق کو ٹالنے کے لئے بغیر الفاظ مباہلہ یا قسم کے ایسا اشتہار دیدیں۔مگر یہ ممکن نہیں کہ مؤکد بعذاب قسم کے ساتھ انکار کر کے کوئی اشتہار شائع کریں۔آپ نے فرمایا کہ اللہ جل شانہ نے ان دونوں ( یعنی لالہ ملا وامل ولالہ شرمیت کو ) اولا د بھی دی ہوئی ہے اس لئے کہ اگر یہ قسم کھا کر اشتہار دیں گے تو ان کی اولا د پر بھی عذاب نازل ہوگا۔