سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 676
سیرت المہدی 676 حصہ سوم دعائیں پڑھتی ہیں اور اسی دُعا اور برکت کا یہ اثر ہے کہ آج ہم میں بھی ایک نبی پیدا ہوا جو ہم میں اس وقت موجود ہے۔وہ خطبہ بہت ہی لطیف تھا۔میں غور سے ٹکٹکی باندھ کر حضرت اقدس کے چہرہ کا مطالعہ کر رہا تھا کہ اس خطبہ کا حضرت صاحب پر کیا اثر ہوتا ہے۔لیکن حضور علیہ السلام پر اس خطبہ کا کوئی خاص اثر میں نے محسوس نہ کیا۔اس دن نماز مغرب کے بعد بھی حضور کافی عرصہ تک مسجد میں بیٹھے رہے۔مگر حضرت صاحب نے اس خطبہ کے متعلق کچھ ذکر نہ کیا۔میرے دل میں خیال آیا کہ حضرت صاحب کو ایک نیا مضمون ملا ہے۔اب حضرت صاحب اس پر کوئی الگ مضمون تحریر فرمائیں گے مگر حضرت صاحب نے اپنی کسی کتاب میں اس مضمون کا ذکر تک نہیں کیا۔جس سے معلوم ہوا کہ حضرت اقدس ادھر ادھر کی باتیں اڑا لینے والے نہ تھے بلکہ وہی کہتے تھے جو خدا آپ کو بتلاتا تھا۔749 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کے زمانہ میں نماز جنازہ خود حضور ہی پڑھاتے تھے۔حالانکہ عام نمازیں حضرت مولوی نورالدین صاحب یا مولوی عبد الکریم صاحب پڑھاتے تھے۔کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ جمعہ کو جنازہ غائب ہونے لگا تو نماز تو مولوی صاحبان میں سے کسی نے پڑھائی اور سلام کے بعد حضرت مسیح موعوڈ آگے بڑھ جاتے تھے اور جنازہ پڑھا دیا کرتے تھے۔مگر حضرت خلیفة المسیح اوّلی کے جتنے بچے فوت ہوئے۔ان کی نماز جنازہ حضرت مولوی صاحب نے خود ہی پڑھائی۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی شامل نماز ہوتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس کی وجہ میں اچھی طرح سمجھا نہیں۔شاید کبھی حضرت صاحب نے خود مولوی صاحب سے ایسا فرمایا ہو یا شاید یہ وجہ ہو کہ چونکہ حضرت صاحب بہت رقیق القلب تھے اور نماز جنازہ میں امام کے دل پر خاص اثر پڑتا ہے اس لئے حضرت خلیفہ اول اپنے بچوں کے تعلق میں حضرت صاحب کو کوئی جذباتی صدمہ پہنچانا پسند نہ فرماتے ہوں خصوصاً جبکہ آپ جانتے تھے کہ مومنوں کے معصوم بچے بہر حال جنتی ہوتے ہیں۔750 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ڈاکٹر میر محد اسمعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت صاحب کئی دفعہ اللہ تعالیٰ کی صفات میں اس کے غناء ذاتی کا ذکر فرمایا کرتے تھے۔اسی ذکر میں بیان فرمایا کرتے تھے