سیرت المہدی (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 675 of 833

سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 675

سیرت المہدی 675 حصہ سوم خاکسار کو اکثر موقعہ ملتا رہا ہے کہ آنحضرت کے پاؤں یا بدن دبائے یا کھانے کے واسطے ہاتھ دُھلائے۔میاں شادی خان صاحب ( حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے خسر ) آپ کے خادم ہوتے تھے اور وہ آپ کے واسطے کھانا لایا کرتے تھے۔حضرت صاحب جب روٹی کھاتے تھے تو ساتھ ساتھ روٹی کے ریزے بناتے جاتے تھے اور فراغت پر ایک خاصی مقدار ریزوں کی آپ کے سامنے سے اُٹھا کرتی تھی جو پرندوں وغیرہ کو ڈالدی جاتی۔آپ کے کھانے میں لنگر کا شور بہ مع ترکاری ہوتا تھا۔اکثر اوقات دہی اور آم کا اچار بھی ہوتا تھا۔ان ایام میں آپ زیادہ تر رہی اور اچار کھایا کرتے تھے۔خاکسار اور مولوی عبداللہ جان صاحب پشاوری اکثر آپ کا پس خوردہ کھا لیا کرتے تھے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ عبداللہ جان صاحب جن کا اس جگہ ذکر ہے وہ میرے نسبتی برادر یعنی میری بیوی کے حقیقی بھائی ہیں۔مگر افسوس ہے کہ حضرت خلیفة المسیح اول کے بعد غیر مبایعین کے گروہ میں شامل ہو گئے۔رض 6747 بسم اللہ الرحمن الرحیم میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ میں نے متعدد مرتبہ دیکھا کہ حضرت اقدس جب بیعت لیتے۔تو حضور جب یہ الفاظ فرماتے ، کہ اے میرے رب! میں نے اپنی جان پر ظلم کئے اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں۔تو میرے گناہوں کو بخش دے۔تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں ، تو تمام آدمی رونے لگ جاتے تھے اور آنسو جاری ہو جاتے تھے کیونکہ حضرت صاحب کی آواز میں اس قدر گداز ہوتا تھا کہ انسان ضرور رونے لگ جاتا تھا۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ مجھے یہ الفاظ یوں یاد ہیں کہ اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور میں اپنے گناہوں کا اقرار کرتا ہوں۔تو میرے گناہ بخش کہ تیرے سوا کوئی بخشنے والا نہیں۔748 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔میر شفیع احمد صاحب محقق دہلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ مولوی محمد احسن صاحب نے چھوٹی مسجد میں جمعہ پڑھایا۔حضرت صاحب بھی وہیں جمعہ میں موجود تھے۔مولوی صاحب نے درود شریف پڑھکر خطبہ پڑھا۔اور اس میں انہوں نے اس درود سے یہ استدلال کیا کہ حضرت ابراہیم جو ابوالانبیاء ہیں۔ان پر تمام انبیاء اور ان کی امتیں اسی طرح صلوٰۃ اور برکت کی