سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 674
سیرت المہدی 674 حصہ سوم مشکل ہوتا ہے خدا اس شخص کی خاطر اسے پورا کر دیتا ہے۔اور اس کی عزت رکھ لیتا ہے۔67440 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ جھنگی والے پیر اپنے ایک بھائی کا علاج کروانے کے لئے قادیان آئے اور مرزا نظام الدین صاحب کے ہاں ٹھہر نا چاہا۔مگر جب حضور علیہ السلام کو معلوم ہوا تو حضور نے ان کے قیام وغیرہ کا بندوبست اپنے ہاں کروالیا۔حضرت خلیفہ اول نے انہیں تین دن ٹھہرایا۔اس وجہ سے ان کو حضور علیہ السلام کے پاس آنا پڑتا تھا۔ایک دن مسجد مبارک میں ان میں سے ایک نے سوال کیا کہ سفر کی کتنی حد ہے۔اس پر حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ کو سفر کی کیا ضرورت پیش آتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مریدوں کے پاس جانے کو دورہ کرنا پڑتا ہے۔اس پر فرمایا۔اگر آپ بیٹھے رہیں تب بھی جو قسمت میں ہے مل جائیگا۔دیکھو ہم کبھی اس نیت سے باہر نہیں گئے۔یہاں ہی اللہ تعالے سب کچھ بھیج دیتا ہے۔اگر آپ بھی سفر نہ کریں تو دونوں کسریں ( نماز اور رزق ) جاتی رہیں۔﴿745 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی مجد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن مولوی محمد علی صاحب یا کسی اور شخص نے ملاں محمد بخش ساکن لاہور عرف جعفر زٹلی کا ایک کارڈ پیش کیا۔جس میں لکھا تھا کہ آریوں نے مسلمانوں کو بھی اپنے جلسہ میں مدعو کیا ہے۔آپ حضرت مرزا صاحب کو میرا سلام کہہ دیں اور عرض کر دیویں کہ اسلام کی عزت رکھی جائے اور حضرت صاحب اس موقعہ پر ایک مضمون لکھیں اس پر حضرت صاحب نے مسکرا کر فرمایا کہ یہ لوگ بڑے بے حیاء ہیں۔ایک طرف تو ہم کو کافر کہتے ہیں اور دوسری طرف ہم کو سلام کہتے ہیں اور اسلام کی اعانت کے واسطے دعوت دیتے ہیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ جعفر زٹلی ایک بڑا ہی بدگو معاند تھا۔لیکن جب آریوں کے مقابلہ پر اپنی بے بضاعتی دیکھی اور اپنے گروہ میں کسی کو اس کا اہل نہ پایا تو نا چار حضرت صاحب کی طرف رجوع کیا کیونکہ ان لوگوں کا دل محسوس کرتا تھا کہ اگر باطل کا سر کچلنے کی کسی میں طاقت ہے تو وہ صرف حضرت صاحب ہیں۔746 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ