سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 673
سیرت المہدی 673 حصہ سوم مسجد کی سیڑھیوں پر پہنچا۔اور حضور کی تقریرسنی۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ اسی قسم کا واقعہ حدیث میں بھی ایک صحابی عبد اللہ بن رواحہ کے متعلق بیان ہوا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کی اس قسم کی آواز سن کر گلی میں ہی بیٹھ گئے تھے۔یہ محبت اور کمال اطاعت کی نشانی ہے اور یہ خدا کا فضل ہے کہ احمدیت میں اخلاص کا نمونہ عین صحابہ کے نقش قدم پر چلتا ہے۔742 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دن حضور اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے جلاب لیا ہوا تھا کہ دو تین خاص مرید جن میں مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم بھی تھے عیادت کے لئے اندر ہی گھر میں حاضر ہوئے۔اس وقت خاکسار کو بھی حاضر ہونے کی اجازت فرمائی۔خاکسار نیچے فرش پر بیٹھنے لگا۔اس پر حضور اقدس نے فرمایا۔کہ آپ میرے پاس چار پائی پر بیٹھ جائیں۔خاکسار الآمُرُ فَوقَ الأَدَبِ “ کو حوظ رکھ کر چار پائی پر بیٹھ گیا۔بوقت رخصت میں نے بیعت کے لئے عرض کی۔فرمایا۔کل کر لینا۔میں نے دوبارہ عرض کیا کہ آج جانے کا ارادہ ہے۔اس پر حضور نے چار پائی پر ہی میری بیعت لی۔اور دُعا فرمائی۔اس پر مولوی عبدالکریم صاحب مرحوم نے مجھ کو مبارکباد دی کہ یہ خاص طور کی بیعت لی گئی ہے۔743 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی محمد ابراہیم صاحب بقا پوری نے مجھ سے بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک روز حضور علیہ السلام سیر کے لئے تشریف لے گئے تو راستہ میں فرمایا۔آج رات مجھے یہ الہام ہوا ہے۔رُبَّ أَغْبَرَ اشْعَتْ لَوْ أَقْسَمَ بِاللهِ لَا بَرَّهُ۔اور فرمایا معلوم ہوتا ہے کہ یہ سعد اللہ لدھیانوی کی موت کے تتعلق ہے۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ سعد اللہ کا ذکر روایت نمبر ۳۹۰ میں بھی گزر چکا ہے۔اور عربی الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ بسا اوقات ایک گرد آلود شخص جس کے بال پریشانی کی وجہ سے بکھرے ہوئے ہوتے ہیں خدا کی محبت پر ناز کر کے اس کی قسم کھا کر ایک بات کہتا ہے اور باوجود اس کے کہ اس بات کا پورا ہونا بظاہر اس الہام کے الفاظ میں راوی مذکور کو سہو ہوا ہے۔الہام کے اصل الفاظ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمائے ہیں یہ ہیں رُبَّ أَشْعَتْ أَغْبَرَ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَابَرَّهُ " 66 ( تذکرہ ایڈیشن چهارم صفحه ۵۸۱)