سیرت المہدی (جلد اوّل) — Page 672
سیرت المہدی 672 حصہ سوم خاکسار عرض کرتا ہے کہ اول وقت سے رات کا حصہ مراد نہیں بلکہ تہجد کے وقت کا اول حصہ مراد ہے یعنی نصف شب کے جلد بعد۔آنحضرت ﷺ کا بھی یہ طریق ہوتا تھا کہ تہجد ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ لمبی نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ کو صبح کی اذان سے قبل کسی قدر استراحت کا موقعہ مل جاتا تھا لیکن نو جوان بچے اگر تہجد کی عادت ڈالنے کے لئے صبح کی اذان سے کچھ وقت پہلے بھی اُٹھ لیا کریں تو ہرج نہیں۔740 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ماسٹر اللہ دتا صاحب نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بذریعہ تحریر بیان کیا کہ ایک دفعہ لاہور احمد یہ بلڈنکس میں حضور تشریف فرما تھے کہ شر قبور بھینی سے ایک ضعیف العمر ناتواں شخص مستقیم نام حضور کے خدمت میں زیارت کے لئے آیا۔احباب کے گھر مٹ میں وہ حضور تک نہ پہنچ سکا اور بلند آواز سے بولا۔حضور میں تو زیارت کے لئے آیا ہوں۔حضور نے فرمایا۔بابا جی کو آگے آنے دو۔لیکن وہ اچھی طرح اُٹھ نہ سکا۔اس پر حضور نے فرمایا۔بابا جی کو تکلیف ہے اور پھر حضور خود اٹھ کر اس کے پاس آبیٹھے۔741 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔بابا کریم بخش صاحب سیالکوٹی نے بواسطہ مولوی عبد الرحمن صاحب مبشر بیان کیا کہ ۶ ، ۱۹۰۵ء کے جلسہ کا واقعہ ہے۔کہ میں مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے کے لئے آیا۔اس وقت مسجد اقصیٰ چھوٹی تھی۔میں نے جوتیوں پر اپنی لوئی بچھا دی۔اور چودھری غلام محمد صاحب و میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی بھی وہاں نماز پڑھنے لگے۔اتنے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی آگئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد قریب کے مکان والے آریہ نے گالیاں دینا شروع کر دیں۔کیونکہ اس کے مکان کی چھت پر بعض اور دوست نماز پڑھ رہے تھے۔جب وہ گالیاں دے رہا تھا۔حضور منبر پر تشریف لے گئے۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے حالات اور لوگوں کے مظالم بیان کرنے شروع کئے۔جس پر اکثر دوست رونے لگے۔اسی اثناء میں میں کسی کام کے لئے بازار میں اُترا۔واپسی پر دیکھا کہ بھیڑ زیادہ ہے۔اتنے میں حضور کے یہ الفاظ میرے کان میں پڑے کہ ”بیٹھ جاؤ جو حضور لوگوں کو مخاطب کر کے فرمارہے تھے۔میں یہ الفاظ سنتے ہی وہیں بازار میں بیٹھ گیا۔اور بیٹھے بیٹھے